جہلم شہر سمیت چاروں تحصیلوں میں رنگ گورا کرنے والی جعلی کریموں کا استعمال جلدی امراض میں تیزی سے اضافہ ہو گیا۔
سکن سپیشلسٹ ڈاکٹرزنے خبر دار کیا ہے کہ رنگ گورا کر نیوالی ناقص،مقامی سطع پر تیار ہونے والی کریموں کا استعمال جلد کا دشمن خطرناک بیماریوں کا سبب بن رہی ہیں ، ایسے پُرکشش اشتہارات کے جھانسے میں آ کر گورا ہونے کی خواہش میں مبتلا خواتین اور نوجوان لڑکےپیسے کی بربادی کے ساتھ اپنی جلد کا بھی نقصان کررہے ہیں۔
جعلی کریموں کے استعمال سے جلدی امراض سمیت مختلف خطرناک بیماریوں کا شکار ہوریے ہیں۔ بازاروں مارکیٹوں میں فروخت ہونے والی رنگ گورا کرنے والی درجنوں کریموں کے ساتھ ساتھ بیوٹی پارلرز بھی کریموں کا مکسچر بنایا جارہا ہے۔
اس وقت 95 فیصد خواتین جن میں کم عمر بچوں بچیوں سے لے کر 45 سال سے زائد عمر کی خواتین شامل ہیں رنگ گورا کرنے والی کریموں کا فارمولا استعمال کر رہی ہیں جو کہ سکن کے امراض سمیت مختلف جلدی امراض کا باعث بن رہی ہیں۔
اس ضمن میں خواتین کی جانب سے رنگ گورا کرنے والی کریموں کے استعمال سے متاثر ہونے والی خواتین نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پانچ دنوں میں چہرہ چاند سا رنگ گورا جیسے دودھ جیسے کوئی کرنے والی کریموں کی فروخت کے وقت ہمیں بتایا تو یہی جاتا ہے کہ یہ کریمیں سٹیرائیڈ سے پاک ہیں تاہم جب استعمال کرتی ہیں تو حقیقت معلوم ہونے تک وہ اپنا کام دکھا چکی ہوتی ہیں۔
انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر معیاری کریموں کی تیاری اور فروخت پر پابندی عائد کی جائے اور غیر معیاری کریمیں رکھنے والے دکانوں کے مالکان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں تاکہ جلدی امراض کاخاتمہ ممکن ہوسکے۔


