Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • صفحۂ اول
  • جہلم
  • دینہ
    • منگلا
  • سوہاوہ
    • ڈومیلی
    • پڑی درویزہ
  • پنڈدادنخان
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • مزید
    • امیگریشن اور سفر
    • لائف اسٹائل
      • دلچسپ و عجیب
      • صحت
    • پاکستان
    • دنیا
    • ٹیکنالوجی
    • کاروبار
    • کھیل
    • تعلیم
    • سیاست
پڑھنا: آنکھ کی پُتلی میں سولر پینل لگا کر بینائی بحال کرنے کی کوشش
شیئر کریں
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر
سرچ
  • صفحۂ اول
  • ضلع جہلمضلع جہلم
    • جہلم
    • دینہ
    • سوہاوہ
    • پنڈدادنخان
    • منگلا
    • ڈومیلی
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
    • پڑی درویزہ
  • بک مارکس
    • My Bookmarks
    • Customize Interests
  •  
    • پاکستان
    • اوورسیز پاکستانی
    • امیگریشن اور سفر
    • سیاست
    • کاروبار
    • کھیل
    • دنیا
    • صحت
    • تعلیم
  • کالم و مضامین
  • ٹیکنالوجی
    • موبائل فون
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں

آنکھ کی پُتلی میں سولر پینل لگا کر بینائی بحال کرنے کی کوشش

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
11 اپریل, 2024
شیئر کریں
شیئر کریں

نیورو پروستھیٹک دنیا بھر میں ایک ابھرتی ہوئی سائنس فیلڈ ہے جس میں ایسے آلات کی تیاری پر کام کیا جا رہا ہے جو اعصابی نظام سے منسلک ہو کر غیر فعال انسانی اعضاء کو دوبارہ فعال کر سکتے ہیں۔

اس کی ایک اہم مثال کوکلیئر امپلانٹ ہے، جسے عشروں سے سماعت کی بحالی کے لیے کان میں نصب کیا جا رہا ہے۔

اب اس فیلڈ میں مزید ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے سائنس دان ایک ایسی ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں، جس میں انسانی آنکھ کے ریٹینا (پردہ چشم) میں سولر پینل لگا کر بینائی کو بحال کیا جا سکتا ہے۔

اسی تصور سے متاثر ہو کر محققین ایسے آلات کی تیاری پر کام کر رہے ہیں، جن کی مدد سے نابینا یا عمر رسیدہ افراد میں بصارت کو بحال کیا جا سکے۔ مگر آنکھ کی ساخت اور حساسیت کے باعث اس عمل میں کئی پیچیدگیاں حائل تھیں۔

یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے سائنس دان ڈاکٹر اوڈو رومر نے ان مسائل کا حل سولر پینل کی صورت میں نکالا ہے۔

اس نئی تحقیق سے امید پیدا ہوئی ہے کہ جلد ہی نابینا اور بوڑھے افراد کی بصارت کو بحال کرنا ممکن ہوگا۔

ڈاکٹر اوڈو رومر انجینئر ہیں اور اس سولر پینل ٹیکنالوجی پر تحقیق کر رہے ہیں۔

انہوں نے جرمن خبر رساں ادارے ”ڈوئچے ویلے“ (ڈی ڈبلیو) سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انسانی آنکھ کے ریٹینا یا پردہ چشم میں کچھ خاص سیلز (خلیات) ہوتے ہیں جنہیں ’’فوٹو ریسیپٹرز“ کہا جاتا ہے۔ یہ فوٹو ریسپیٹرز بیرونی ماحول سے آنکھ میں پڑنے والی روشنی کو سگنلز میں تبدیل کر کے دماغ تک بھیجتے ہیں۔

ڈاکٹر رومر بتاتے ہیں کہ ’انہی ریسیپٹرز کی مدد سے ہم دن اور رات میں مختلف رنگوں یا اندھیرے کا احساس کرتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ بصارت کے زیادہ تر مسائل جیسے ریٹینس پگمینٹوسا اور عمر کے ساتھ بینائی کم ہونا وغیرہ ان فوٹو ریسیپٹرز میں خرابیوں کے باعث پیدا ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ ریٹینس پگمینٹوسا بصارت کی وہ بیماری ہے، جس میں آنکھ کے مرکز میں پردہ چشم متاثر ہونے سے مریض کو رات میں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کان میں سماعت کے لیے کوکلیئر امپلانٹ سرجری کئی عشروں سے کی جا رہی ہے۔ اسی طرز پر آنکھ میں خراب فوٹو ریسیپٹرز کو فعال کرنے کے لیے بائیو میڈیکل امپلانٹس لگانے پر سائنس دان ایک طویل عرصے سے تحقیق کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر رومر کے مطابق بائیو میڈیکل امپلانٹس لگانے کا ایک قابل عمل طریقہ یہ ہے کہ ریٹینا میں وولٹیج پلس بنانے کے لیے الیکٹروڈز استعمال کیے جائیں۔ لیکن اس کے لیے آنکھ میں وائرنگ کرنا ہوگی، جو ایک انتہائی پیچیدہ سرجری ہے۔

اس نئی تحقیق سے متعلق بتاتے ہوئے ڈاکٹر رومر نے کہا کہ چھوٹے سائز کے سولر پینلز وائرنگ اور الیکٹروڈز کا ایک بہتر متبادل ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سولر پینل آنکھ کی پتلی کے ساتھ نصب کیے جائیں تو یہ سورج کی روشنی کو الیکٹرک پلس میں تبدیل کرتے ہیں۔ یہ پلسز دماغ تک پہنچ کر وہاں ”ویژول فیلڈ“ بناتی ہیں جس سے بصارت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

ڈاکٹر رومر نے مزید کہا کہ یہ چھوٹے سولر پینلز پورٹیبل ہیں اور آنکھ میں ان کو لگانے کے لیے کیبلز یا وائرنگ کی ضرورت نہیں ہوتی۔

ان کے مطابق اس تکنیک پر دنیا بھر میں کئی سائنس دان کام کر رہے ہیں مگر زیادہ تر محققین نے اپنے تجربات کے لیے سیلیکون سے بنے آلات استعمال کیے ہیں۔ جبکہ ان کی توجہ کا مرکز دیگر سیمی کنڈکٹر مرکبات جیسے گیلیئم آرسینائڈ اور گیلیئم انڈیم فاسفائیڈ پر ہے، جن کی خصوصیات کو باآسانی اور حسب ضرورت تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہا یہ مرکبات اپنی افادیت اور سستے ہونے کے باعث سولر پینل انڈسٹریز میں بڑے پیمانے پر استعمال کیے جا رہے ہیں۔

تحقیق کے نتائج

ڈاکٹر رومر کے مطابق دماغ میں نیورونز کو متحرک کرنے کے لیے زیادہ وولیٹیج کی ضرورت ہوتی ہے۔

ان کی اس تحقیق سے سامنے آیا کہ گیلیئم آرسینائڈ کے تین سولر سیلز سے اتنا وولٹیج پیدا کیا جاسکتا ہے، جو دماغ تک سگنل یا پلس پہنچا سکے۔

وہ بتاتے ہیں کہ اب تک ان کی ٹیم نے لیبارٹری میں دو سولر سیلز کو تقریباً ایک مربع سینٹی میٹر کے رقبے پر ایک دوسرے کے اوپر لگایا ہے، جس کے نتائج کافی حوصلہ افزا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کہ اگلے مرحلے میں انہیں بصارت کے لیے درکار پکسل سائز میں لانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی ان سولر پینلز کو باحفاظت الگ کرنے کے لیے مناسب تکنیک بھی استعمال کرنی ہوگی۔

ڈاکٹر رومر کہتے ہیں کہ جب ان کی ٹیم دو سولر سیلز کے ساتھ ان تمام مراحل کو کامیابی سے عبور کرلے گی تو اس کے بعد پھر تین سولر سیلز جوڑنے پر کام کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جانوروں پر مرحلہ وار ٹیسٹنگ کے بعد جب یہ ڈیوائس انسانوں کے لیے دستیاب ہو گی تو اس کا ممکنہ سائز دو مربع ملی میٹر تک ہوگا۔

تکنیک میں حائل پیچیدگیاں

ڈاکٹر رومر کے مطابق ابھی یہ تحقیق ابتدائی مراحل میں ہے۔ تین سولر سیلز پر مشتمل یہ ڈیوائس جب آنکھ میں نصب کی جائے گی تو غالب امکان ہے کہ سورج کی روشنی پڑنے سے شاید ریٹینا کے غیر فعال ریسیپٹرز دوبارہ کام شروع نہ کریں۔ لہذا ان افراد کو مخصوص گوگلز (عینک) استعمال کرنا ہوں گی، جو سورج کی روشنی کی شدت کو ضروری حد تک بڑھائیں گے تاکہ نیورونز کو متحرک کیا جا سکے۔

ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ وہ ایک بار پھر اس بات کو دہرائیں گے کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی تحقیقی مراحل میں ہے اور اسے بصارت کے مسائل یا نابینا افراد کے لیے کلینیکلی دستیاب ہونے میں کئی سال لگیں گے۔

یہ مضمون شیئر کریں
Facebook Flipboard Pinterest Whatsapp Whatsapp Reddit Telegram لنک کاپی کریں
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمیں فالو کریں

FacebookLike
XFollow
PinterestPin
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
TiktokFollow
WhatsAppFollow
LinkedInFollow
SnapchatSubscribe
ThreadsFollow
BlueskyFollow
Weather
18°C
Jhelum
clear sky
18° _ 18°
51%
2 m/s
اتوار
30 °C
پیر
32 °C
منگل
34 °C
بدھ
34 °C
جمعرات
30 °C

تازہ ترین

جہلم: گورنمنٹ گریجویٹ کالج میں ووٹر آگاہی سیشن، طلبہ و طالبات کو انتخابی عمل اور ووٹ کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا
24 اکتوبر, 2026
جہلم: سائلین کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرکے فوری داد رسی یقینی بنائی جائے گی، ڈی پی او جہلم شفیق احمد چوہدری
24 اکتوبر, 2026
جہلم میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے قیام کے بعد سنگین جرائم میں 66 فیصد کمی ریکارڈ
24 اکتوبر, 2026
جہلم: سرکاری اسکولوں کی خستہ حال عمارتیں طلبہ کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن گئیں
24 اکتوبر, 2026
سوہاوہ میں اسلحہ کے زور پر طالب علم کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے والا ملزم گرفتار، اسلحہ برآمد
24 اکتوبر, 2026

شاید آپ یہ بھی پڑھنا پسند کریں

سام سنگ کی ایم سیریز کے دو فونز پیش

27 فروری, 2025

آن لائن کاروبار کیلئے لائسنس لازمی قرار، طریقہ کار سامنے آگیا

24 دسمبر, 2023

ہواوے کا مہنگا ترین فون خریدنے کے خواہشمند صارفین خالی ہاتھ واپس لوٹ گئے

23 ستمبر, 2024

دنیا کے قطبی کنارے برف سے محروم ہونے لگے، سائنسدانوں کی وارننگ

18 فروری, 2025

اشتہارات اور خبروں کیلئے جہلم اپڈیٹس سے رابطہ کریں۔

  • [email protected]
  • [email protected]
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں Follow us on Google News
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • Terms & Condition
  • About Us
  • Home

About US

The Largest News Network of Jhelum, Pakistan.
Quick Link
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر

Subscribe US

Subscribe to our newsletter to get our newest articles instantly!

[mc4wp_form]
Jhelum UpdatesJhelum Updates
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں