بھارت کا وادی کشمیر پرغاصبانہ قبضہ ہے، چوہدری محمد قربان

لوٹن: میرپور انٹرنیشنل ائرپورٹ موومنٹ برطانیہ اور یورپ کے چیئرمین اور کوآرڈینیٹر کشمیر سالیڈیرٹی کمپین لوٹن حاجی چوہدری محمد قربان نے کہا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کشمیر کی سرزمین پر لاگو ہی نہیں ہوتے کیونکہ بھارت کا کشمیر پر غاصبانہ قبضہ ہے۔

میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ لوٹن میں بھی اس متعلق کمیونٹی کو متحرک کریں گے لوٹن کے کشمیری بھارت پر واضح کرتے ہیں کہ کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ تھا نہ ہوگا اور کشمیری بھارت کی کسی عدالت کے فیصلے کے پابند نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کوئی عدالت کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرسکتی۔ مقبوضہ کشمیر سے متعلق کوئی یکطرفہ اقدام کشمیری عوام کو ہرگز قابلِ قبول نہیں۔ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ خود کشمیری عوام استصواب رائے کے عمل میں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ فاشسٹ ہندو توا نظریے پر مبنی نریندر مودی سرکار کے حکومتی فیصلے کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ نے 20سے زائد درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے یہ عجیب منطق اپنائی ہے کہ آئین کی دفعہ 370جس کے تحت یہ درجہ دیا گیا تھا عارضی تھی جس کی منسوخی، ریاست کی داخلی خودمختاری کا خاتمہ اور بھارت میں اس کا مکمل ادغام درست ہے۔

حاجی چوہدری محمد قربان نے کہا کہ اس عدالتی فیصلے سے پہلے کشمیری عوام کے شدید ردعمل کو کچلنے کیلئے پوری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج تعینات کر دی گئی تھی۔

حاجی چوہدری محمد قربان نے کہا یہ اس امر کا بین ثبوت ہے کہ مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا قبضہ غیر قانونی ہے اور اس کی عدالت کے فیصلے کشمیری سرزمین پر لاگو نہیں ہوتے اسی لیے بھارت کشمیری عوام کی آواز دبانے کے لیے ہر طرح کے ناجائز ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے ہم برطانیہ کے کشمیری بھارت کے ان ہتھکنڈوں کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button