جہلم شہر سمیت دینہ، سوہاوہ اور پنڈدادنخان میں مہنگائی کی شرح بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جس کے باعث عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کمانا اور بچوں کو کھانا مہیا کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔
شہریوں کے مطابق سبزیاں، دالیں، گھی، آٹا اور گوشت منہ مانگے داموں پر فروخت ہو رہے ہیں جبکہ حالیہ مہنگائی کی شدید لہر نے غریب اور متوسط طبقے کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مسلسل بڑھنے سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
دکانداروں کا کہنا ہے کہ منڈیوں سے ہی اشیاء مہنگی مل رہی ہیں، اس لیے وہ سستے داموں فروخت کرنے سے قاصر ہیں جبکہ مقامی انتظامیہ مہنگائی پر قابو پانے میں مکمل طور پر بے بس نظر آ رہی ہے۔
شہریوں نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال سے سب سے زیادہ فائدہ منفعت خور مافیا اٹھا رہا ہے جو روز بروز امیر سے امیر تر ہوتا جا رہا ہے۔
عوام نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری زراعت سے فوری نوٹس لینے اور اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں استحکام کے لیے موثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔


