جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں شدید گرمی کی لہر کے دوران پبلک ٹرانسپورٹ میں استعمال ہونے والی پرانے ٹائروں والی گاڑیاں خطرناک صورتِ حال اختیار کرنے لگی ہیں، جو کسی بھی وقت جان لیوا حادثات کا سبب بن سکتی ہیں۔
درجہ حرارت 40 سے 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے، مگر متعلقہ ادارے تاحال خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ موٹروہیکل ایگزمینر اور سیکرٹری روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے نہ تو ٹرانسپورٹرز کو گرمی کے موسم میں ٹائرز کی تبدیلی سے متعلق آگاہی دی گئی ہے اور نہ ہی اب تک پرانے اور ناقص ٹائروں کے استعمال پر کوئی مؤثر کارروائی عمل میں لائی جا سکی ہے۔ ایسی گاڑیاں، جن کے ٹائر اپنی معیاد مکمل کر چکے ہیں، شدید گرمی میں سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں، جو کسی بھی لمحے بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق شدید درجہ حرارت کے باعث پرانے ٹائرز کا پھٹنا معمول بن جاتا ہے، جس سے نہ صرف گاڑی میں سوار مسافروں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جاتی ہیں بلکہ دیگر راہگیروں کے لیے بھی خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تاہم انتظامیہ کی جانب سے اس سنگین مسئلے پر کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر سید محمد میثم عباس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لیتے ہوئے موٹروہیکل ایگزمینر اور سیکرٹری روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو ہدایت دیں کہ وہ اس حوالے سے باضابطہ مہم کا آغاز کریں، ناقص ٹائر استعمال کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف سخت کارروائیاں کی جائیں اور مسافروں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔


