لندن: ایک غیر معمولی برٹش پاکستانی ریل ورکر کو 2015سے اب تک 29لوگوں کو اپنی جان لینے سے بچانے کے اعتراف میں ایم بی ای مقرر کیا گیا ہے۔
مشرقی لندن کے لیٹن سے تعلق رکھنے والے رضوان جاوید، ایلنگ براڈوے اور پیڈنگٹن سٹیشنوں پر ایم ٹی آر الزبتھ لائن کے لئے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی ڈیوٹی کے دوران پلیٹ فارم پر چوکنا رہ کر اور مشکل حالات میں کمزور افراد تک پہنچ کر ان کی جان بچانے میں مدد کی۔ رضوان جاوید نے تقریباً 10سال قبل ریلوے میں شمولیت اختیار کی تھی اور اپنے کیریئر کے آغاز میں انہوں نے سماریٹنز ٹریننگ کورس میں شرکت کی۔
انہوں نے نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میں اس اعزاز پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں، یہ سب میرے والدین کی دعاؤں کی وجہ سے ہے کہ مجھے کنگ نیو ائرز آنرز لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ میرے لئے بہت بڑا اعزاز ہے کہ میرا کام ذہنی صحت کے شعبے میں اس طرح تسلیم کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماریٹنز کے ساتھ ان کا کام اصل کلید ہے۔ سماریٹنز کے ساتھ میں نے سیکھا کہ کمزور لوگوں کی شناخت کیسے کی جائے، ان کے ساتھ کیا بات چیت کرنی ہے، ان کو کیسے مشغول کرنا ہے، ان پر کس طرح نظر رکھنا ہے اور انہیں حفاظت کے مقام تک کیسے لے جانا ہے۔
اس کے بعد اپنی ریلوے کی نوکری شروع کرنے کے بعد پہلے ہفتے میں ہی مسٹر رضوان جاوید نے کسی کو اپنی جان لینے سے روکنے میں مدد کی۔ 2019 میں مسٹر جاوید، جو پہلے گریٹ ویسٹرن ریلوے (جی ڈبلیو آر) کے لئے کام کر چکے ہیں، نے سماریٹنز لائف سیور ایوارڈ جیتا، جو ان لوگوں کا اعتراف کرتا ہے، جنہوں نے اپنی بات کرنے اور سننے کی مہارت کا استعمال کیا ہے۔
مسٹر جاوید نے بتایا کہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ اللہ اسے ہمیشہ دوسروں کی مدد کرنے اور ان لوگوں کے ساتھ رہنے کا بدلہ دے گا، جن کے ساتھ بات کرنے کے لئے کوئی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے والدین نے مجھے کم عمری سے ہمیشہ یہ سکھایا کہ ایک اچھا اور کارآمد شہری کیسے بننا ہے، کس طرح فرق کرنا ہے۔
رضوان جاوید نے ماضی کی یاد تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایک موقع پر میں نے 20 سال کی درمیانی عمر کی ایک لڑکی کو یہ دیکھ کر اس سے بات کی کہ اسے مدد کی ضرورت ہے۔ کچھ دنوں بعد وہ سٹیشن پر دوڑتی ہوئی میرے پاس آئی اور مجھے گلے لگایا۔ لڑکی نے کہا کہ اگر میں اس رات اس سے بات نہ کرتا اور اگر میں نے اسے قائل نہ کیا ہوتا کہ زندگی جینے کے قابل ہے تو وہ آج زندہ نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ لوگ ذہنی صحت کے مسائل کے بارے میں آگہی نہیں رکھتے اور یہ چیزیں بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں۔
رضوان اور اس کے والدین اس وقت بہت خوش ہوئے، جب انہیں حکومتی خط موصول ہوا، جس میں بتایا گیا تھا کہ انہیں ان کی خدمات کے اعتراف میں ایم بی ای مقرر کیا جا رہا ہے۔
رضوان کا کہنا تھا کہ لوگوں کے چہرے کے تاثرات، موسم کے مطابق پہننے والے لباس کی حالت، عجیب و غریب کام کرنا، راستے میں رہنا اور نہ رکنے والی خدمات کے بارے میں پوچھنا یہ سب نشانیاں ہیں کہ اس شخص کو دماغی صحت کے مسائل کے باعث مدد کی ضرورت ہے۔ تمام کمیونٹیز کو متاثر کرتے ہیں لیکن زیادہ وسائل مختص کرنا اہم ہے، برٹش ایمپائر موسٹ ایکسیلنٹ آرڈر کے رکن (ایم بی ای) برٹش ایمپائر آرڈر لیول کےتیسرے نمبر پر ہے۔ جس کا رینک (نائٹ ہوڈ/ڈیم ہوڈ) سی بی ای اور پھر او بی ای کے بعد آتا ہے۔


