جہلم: شہریوں کو فائرنگ کر کے زخمی اور تشدد کا نشانہ بنانے والے مسلح افراد گرفتار

جہلم پولیس ان ایکشن، وردی کا ناجائز استعمال ڈی ایس پی ٹریفک پولیس کو مہنگا پڑنے لگا، شہریوں کو فائرنگ کر کے زخمی اور تشدد کا نشانہ بنانے والے مسلح افراد گرفتار کر لئے گئے۔

تفصیلات کے مطابق ڈی ایس پی صدر سرکل جہلم میاں عبدالجبار نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانے، تشدد کرنے اور فائرنگ کر کے شہریوں کو زخمی کرنے والے مسلح افراد کو گرفتار کر لیا۔

ایس ایچ او تھانہ صدر چوہدری عمران نے نفری کے ہمراہ کامیاب ریڈ کرکے متعدد مسلح افراد کو گرفتار کیا۔ رات گئے ریڈ ڈی ایس پی ٹریفک پولیس ابرار قریشی جو اس وقت راولپنڈی میں تعینات ہیں انکی رہائش گاہ شیخ قریشیاں میں کیا گیا جہاں سے مسلح افراد کو گرفتار کیا گیا۔

ڈی ایس پی کا بیٹا موقع پر موجود نہ ہونے سے گرفتاری عمل میں نہ لائی جا سکی۔ ڈی پی او جہلم نے ابرار قریشی سمیت اسکے بیٹے افاق قریشی کی گرفتاری کا بھی حکم جاری کر دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ملزمان قانون کو ہاتھ میں لیں گے تو قانون حرکت میں آئے گا۔

عمران چوہدری ایس ایچ او نے ڈی ایس پی کے گھر ریڈ کرکے گرفتاری عمل میں لائی جبکہ انہی مسلح افراد نے سوہاوہ کے قریب محمود قریشی پر جان لیوا حملہ کیا جس سے محمود قریشی سمیت انکے ساتھی بال بال بچے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون سے بالا تر کوئی نہیں ہے، جو قانون ہاتھ میں لے گا قانون اپنا راستہ بخوبی جانتا ہے۔

یاد رہے کہ تھانہ صدر جہلم کی حدود میں ڈیڑھ ماہ پہلے شیخ قریشیاں میں ڈی ایس پی ٹریفک راولپنڈی ابرار قریشی کے بیٹے آفاق ابرار نے ایک معذور عورت کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کا گواہ حماد نامی نوجوان تھا، گواہی سے نہ رکنے پر ڈی ایس پی کی آشیرباد پر اس کے بیٹے آفاق ابرار نے حماد پر فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں حماد اور اس کا دوست ارمان گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوئے تھے۔

تھانہ صدر پولیس نے ڈی ایس پی ابرار قریشی اس کے بیٹے آفاق ابرار اور نامعلوم ملزنان کے خلاف فائرنگ کا مقدمہ درج کیا تھا۔

چند روز قبل ساجد قریشی، حماد وغیرہ ڈی ایس پی سوہاوہ کے پاس انکوائری میں پیش ہونے کےلیے گئے تھے جب واپس آ رہے تھے تو ابرار قریشی کے بیٹے آفاق ابرار نے ساتھیوں کے ہمراہ ساجد اور حماد وغیرہ کا پیچھا کرکے ان پر فائرنگ کی لیکن خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ اس واقعہ کا پولیس نے مقدمہ تو درج کر لیا تھا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button