جہلم: ای او بی آئی کے تحت پنشن حاصل کرنے والے بزرگ شہریوں کے لیے بائیو میٹرک تصدیقی نظام ایک مسلسل اذیت اور پریشانی کا سبب بن چکا ہے۔
جہلم شہر سمیت چاروں تحصیلوں اور نواحی علاقوں میں مقیم بزرگ پنشنرز کو بار بار بائیو میٹرک تصدیق کے نام پر مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
متاثرہ پنشنرز کا کہنا ہے کہ بعض اوقات صرف تین ماہ بعد ہی دوبارہ تصدیق کرانے کی ہدایت کر دی جاتی ہے، جبکہ کئی معاملات میں چھ چھ ماہ تک سسٹم میں کوئی اپڈیٹ ہی نہیں آتی۔ یہ غیر منظم اور غیر مستحکم نظام بزرگ پنشنرز کے لیے ذہنی اذیت، جسمانی مشقت اور مالی بوجھ کا باعث بن رہا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متعدد بزرگ پنشنرز نے شکوہ کیا کہ بیماری، بڑھاپے اور کمزوری کے باوجود انہیں دور دراز علاقوں سے سفر کر کے بینکوں یا متعلقہ مراکز پر جانا پڑتا ہے۔ اکثر اوقات بائیو میٹرک مشینوں کا کام نہ کرنا، سسٹم کی خرابی، عملے کی لاپرواہی یا ڈیٹا کی غلطیوں کے باعث انہیں گھنٹوں انتظار کے بعد مایوس واپس لوٹنا پڑتا ہے۔
عوامی و سماجی حلقوں اور متاثرہ شہریوں نے وفاقی حکومت اور ای او بی آئی کے اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ بائیو میٹرک تصدیق کے نظام کو فوری طور پر سہل، شفاف اور دیرپا بنیادوں پر بہتر بنایا جائے تاکہ بزرگ پنشنرز کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پنشن کسی پر احسان نہیں بلکہ یہ اُن افراد کا آئینی و قانونی حق ہے جنہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی سال ملک و قوم کی خدمت میں گزارے ہیں۔ بزرگ شہریوں کو عزت و سہولت کے ساتھ ان کا حق دیا جانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔


