کیا بیوروکریٹ ریٹرننگ افسران کے تحت عام انتخابات شفاف ہوں گے؟

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لیے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران، ریٹرننگ افسران اور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز بطور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اپنے فرائض سرانجام دیں گے۔

حالیہ تاریخ میں یہ پاکستان کے پہلے عام انتخابات ہوں گے جو مکمل طور پر انتظامی افسران یا بیوروکریٹس کی نگرانی میں ہوں گے۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’عام انتخابات 2024 کے لیے 13 دسمبر سے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹرننگ افسران کی جامع تربیت کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ٹریننگ کے تمام انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ کمیشن کے اپنے افسران تمام ریٹرننگ افسران کو الیکشن کے امور کی تربیت فراہم کریں گے۔‘

دوسری طرف لاہور ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کی ایک درخواست پر بھی فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جس میں عام انتخابات کو بیوروکریسی کے تحت نہ کروانے کی استدعا کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے لاہور ہائی کورٹ کو بتایا کہ گذشتہ کافی عرصے سے ملک کی چاروں ہائی کورٹس کو جوڈیشل سٹاف کے لیے مراسلے لکھے گئے لیکن کسی بھی ہائی کورٹ نے جوڈیشل افسران دینے کی ہامی نہیں بھری اس لیے انتظامی افسران کو ہی آر اوز لگایا گیا ہے۔

بیوروکریسی کے ذریعے انتخابات کیسے ہوں گے؟

پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں سے صرف تحریک انصاف نے اس بات پر اعتراض اٹھایا ہے کہ عام انتخابات کو سرکاری افسران کے تحت نہ کروایا جائے، تاہم باقی سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے اپنے اختیارات کا ہے جو بھی فیصلہ کیا گیا ہے وہ قبول ہے۔

پاکستان میں انتخابات کے عمل پر نظر رکھنے والے ادارے فیئر اینڈ فری الیکشن نیٹ ورک (فافن) کا کہنا ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انتخابات جوڈیشل افسران کے تحت ہوں یا پھر سرکاری افسران کے۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ 13 دسمبر سے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹرننگ افسران کی جامع تربیت کا آغاز کیا جا رہا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

فافن کے نیشنل کوارڈینیٹر رشید چوہدری نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا نہیں خیال کہ اس سے کوئی فرق پڑنا چاہیے۔ اگر آپ دیکھیں تو 2013 کے انتخابات جو مکمل طور پر جوڈیشل افسران کے تحت ہوئے تھے تو بعد میں ان کو آر اوز کا الیکشن کہا گیا۔ آر اوز کے حوالے ان انتخابات کو سب سے متنازع سمجھا جاتا ہے۔‘

’بلکہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن کے پاس اختیارات زیادہ آگئے ہیں اور کوئی سرکاری افسر ہو یا جوڈیشل افسر، الیکشن ڈیوٹی انہوں نے الیکشن کمیشن کے تحت ہی کرنا ہوتی ہے۔ تمام اختیار کمیشن کے پاس ہوتے ہیں۔ جوڈیشل افسران کو لینے کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ متعلقہ ہائی کورٹ کو لکھا جاتا ہے اور پھر وہ افسران کے نام دیتی ہے۔ اب الیکشن کمیشن نے براہ راست ہی افسران تعینات کر دیے ہیں۔‘

خیال رہے کہ اس سے پہلے مکمل طور پر سرکاری افسران کے تحت بلدیاتی انتخابات ہوتے رہے ہیں۔ 2008 اور 2018 کے اتنخابات جوڈیشل اور ایگزیکٹیو افسران کے تحت ہوئے جبکہ 2013 کے عام انتخابات مکمل طور پر جوڈیشل افسران کے تحت ہوئے تھے۔

رشید چوہدری کا کہنا ہے کہ ’الیکشن کے تمام عمل کے لیے پہلے بھی سرکاری افسران ہی کی خدمات لی جاتی تھیں۔ پریذائیڈنگ افسران زیادہ تر سکولوں کے اساتذہ ہوتے ہیں۔ عملے سے انتخابی عمل کی صحت کو نہیں جانچا جا سکتا۔ اصل بات الیکشن والے دن کا عمل ہے۔‘

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button