جہلم: سرکاری گاڑیوں کا دفتری اوقات میں گھروں میں استعمال معمول بن گیا افسران کے کم عمر بچے اور بیگمات گاڑیوں میں گھومتے نظر آنے لگے، عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہیں لینے والوں کی شاہ خرچیاں عروج پر، تیل بھی عوام کا رعب بھی عوام پر، ضلع بھر کے سرکاری افسران کی شاہ خرچیاں جاری ہیں۔
تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے ملنے والی سرکاری گاڑیاں افسران کی بیگمات اور بچوں نے گھر کے کام کاج اور نجی مصروفیات میں استعمال کر نا شروع کر رکھی ہیں ۔افسران کے بچوں کو سکول چھوڑنا ان کی بیگمات کو بیوٹی پارلروں و بازاروں، پلازوں،سے خریداری کروانا اور لاڈلے بچوں کی سیرو تفریح کے لئے استعمال کرنا معمول بنا لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سرکاری محکموں کے افسران سمیت ماتحت عملے نے بھی افسران کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے سرکاری گاڑیوں کا غیر قانونی استعمال شروع کر رکھا ہے جس کی وجہ سے ضلع بھر کے تما م سرکاری اداروں کے افسران کے پاس سرکاری گاڑیاں بروقت میسر نہ آنے کیوجہ سے سرکاری کاموں میں تاخیر کا باعث بن رہی ہیں۔
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اداروں کے افسران کے ڈرائیورز شام ہوتے ہی اپنی بیگمات کے ہمراہ بیوٹی پارلروں، بیکریوں اور شاپنگ سینٹروں کے قریب گھومتے نظر آتے ہیں ۔اسی بنیادی وجہ سے تقریباً تمام اداروں کے افسران تاخیر سے دفتروں میں پہنچتے ہیں جس کی وجہ سے دور دراز سے آنے والے سائلین کو افسران کا طویل انتظار کرنا پڑتا ہے ۔
شہریوں نے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ قانون کے مطابق سرکاری گاڑیوں کو چھٹی کے بعد سرکاری عمارتوں کے اندر کھڑا کیا جائے تاکہ قوم کے خون پسینے کی رقم کو افسران عیاشیوں میں نہ بہایا جائے ۔ بعض سرکاری اداروں کے افسران نے سوچی سمجھی سازش کے تحت سرکاری خرانے کو بے دریغ لوٹنا اپنا فرض سمجھ رکھا ہے جس کی وجہ سے سرکاری خزانے کو ماہانہ لاکھوں، کروڑوں روپوں کا ٹیکہ لگایا جارہا ہے۔


