جہلم شہر اور گردونواح میں نوجوانوں میں باڈی بلڈنگ اور فٹنس کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی غیر معیاری اور خطرناک سپلیمنٹس کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے جس نے نوجوانوں کی صحت کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
جم اور فٹنس سینٹرز میں غیر قانونی پاؤڈرز اور سٹیرائیڈز کھلے عام فروخت کیے جا رہے ہیں جو انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ان سپلیمنٹس میں شامل کیمیکلز گردوں اور جگر پر براہ راست اثرانداز ہوتے ہیں جبکہ طویل استعمال سے ہارٹ اٹیک اور دیگر مہلک امراض لاحق ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
بیشمار نوجوان جسمانی ساخت بہتر بنانے کی دوڑ میں غیر مستند ٹرینرز اور دکانداروں کے مشورے پر مہنگے سپلیمنٹس خریدتے ہیں، جو اکثر جعلی یا زائدالمیعاد نکلتے ہیں۔ ان کے استعمال سے نوجوان نہ صرف مختلف جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں بلکہ ہارمونی مسائل اور نفسیاتی دباؤ کا بھی شکار بنتے جا رہے ہیں۔
شہری حلقوں نے ضلعی انتظامیہ، ڈسٹرکٹ ڈرگ کنٹرول اتھارٹی اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے مراکز کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے، غیر رجسٹرڈ مصنوعات کی فروخت بند کی جائے اور نوجوانوں کو آگاہی فراہم کی جائے تاکہ ان کی صحت محفوظ رہ سکے۔


