جہلم: ٹریفک پولیس اور سیکرٹری ڈسٹرکٹ روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے عملے کی مبینہ آشیر باد اور ملی بھگت سے ٹرانسپورٹرز بے لگام، جنرل بس اسٹینڈ سے دیگر اضلاع میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ مالکان نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے احکامات کی دھجیاں اڑانے میں مصروف، ٹرانسپورٹرز نے از خود پبلک ٹرانسپورٹ کے سٹاپ ٹو سٹاپ کرایوں میں اضافہ کر دیا، مسافر خصوصاً طالب علموں اور خواتین سے ڈرائیوروں کی بد تمیزی، گالی گلوچ ، لڑائی جھگڑا روزانہ کا معمول بن چکا ہے ۔
شہریوںکا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جنرل بس اسٹینڈ سے مختلف روٹس پر چلنے والی ٹرانسپورٹ مالکان نے سیکرٹری ڈسٹرکٹ روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی ڈھیل یا ڈیل کے باعث پنجاب روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے مقرر کردہ کرایوں پر عملدرآمد کرانے میں مکمل ناکام دکھائی دیتے ہیں۔
سیکرٹری ڈسٹرکٹ روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی زائد کرایہ وصول کرنے والے ٹرانسپورٹروں کے خلاف کسی قسم کی کارروائیاں کرنے سے گریزاں ہیں جو کہ انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ، جس کے باعث ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی کارکردگی مشکوک ہو کر رہ گئی ہے۔
دوسری جانب وومن ہراسمنٹ کے حوالے سے حکومت نے خواتین کی تذلیل کے خلاف قانون لاگو کررکھا ہے لیکن ٹرانسپورٹ عملے کی جانب سے حراسمنٹ کے ایس او پیز پر عملدرآمد کرنا دور کی بات خواتین کے ساتھ مسافروں کے سامنے ہتک آمیز رویہ اپنانا ٹرانسپورٹرز نے معمول بنا رکھا ہے ،ٹرانسپورٹ عملہ مسافروں کو گاڑیوں سے نیچے اتار دینے کے ساتھ ساتھ لڑائی جھگڑے گالی گلوچ کرنا بھی فیشن بنالیا ہے۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب ، چیف سیکرٹری پنجاب،سیکرٹری ٹرانسپورٹ ، کمشنر راولپنڈی سے مطالبہ کیاہے کہ پنجاب روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے مقررہ کردہ کرایوں پر عملدرآمد کروانے کے لئے سیکرٹری ڈسٹرکٹ روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کوسختی سے پابند بنایا جائے اضافی کرائے اور خواتین کے ہراسمنٹ بارے جاری ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف فوجداری مقدمات درج کروائے جائیں تاکہ ضلع جہلم میں نافذ جنگل کے قانون کا خاتمہ ختم ہوسکے۔


