سیاسی دھڑے بندی نے کبھی ناقابلِ تسخیر سمجھے جانے والے ن لیگی قلعے کی بنیادیں ہلا دیں، کیا وزیراعلیٰ پنجاب ایک روزہ دورے میں صرف تالیاں سمیٹیں گی یا اپنی جماعت کی بکھرتی ہوئی قوت کو بھی یکجا کریں گی؟
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے متوقع دورۂ جہلم کے پیشِ نظر سرکاری محکموں میں ہلچل شروع ہو چکی ہے۔ فائلوں کی گرد جھاڑی جا رہی ہے، ترقیاتی منصوبوں کو آخری شکل دینے کی کوششیں جاری ہیں اور انتظامی مشینری متحرک دکھائی دے رہی ہے۔ بظاہر اس بار فضا کچھ ایسی بنائی جا رہی ہے کہ ماضی کی طرح عین وقت پر دورے کی منسوخی کا اعلان نہ سننا پڑے۔ تاہم جہلم کی سیاسی فضا میں ایک سوال بدستور گردش کر رہا ہے کہ کیا مریم نواز کا یہ دورہ محض سرکاری تقریبات، افتتاحی تختیوں اور سیاسی نعروں تک محدود رہے گا یا وہ اس شہر کی سیاست میں جمی ہوئی دھڑے بندی کی برف بھی پگھلانے کا کوئی فیصلہ کن قدم اٹھائیں گی؟
ماضی میں وزیراعلیٰ پنجاب کے جہلم کے کئی مجوزہ دورے آخری لمحات میں ملتوی ہو چکے ہیں۔ پہلے الیکٹرک بسوں کے افتتاح کی تقریب متوقع تھی، پھر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال جہلم میں کارڈیک کیتھ لیب کے افتتاح کا پروگرام زیرِ غور آیا، لیکن دونوں اہم مواقع پر دورے عین وقت پر منسوخ کر دیے گئے۔
ان مسلسل التواؤں کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا رہا کہ معاملہ محض انتظامی مصروفیات کا نہیں بلکہ جہلم میں مسلم لیگ (ن) کے مختلف دھڑوں کے مابین جاری رسہ کشی بھی اس کی ایک بڑی وجہ رہی۔ اب اگرچہ بظاہر باہمی اختلافات پر پردہ ڈالنے اور سیاسی ہم آہنگی کا تاثر دینے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اختلافات واقعی ختم ہو چکے ہیں یا صرف وزیراعلیٰ کی آمد تک انہیں خاموش رہنے کا پابند کر دیا گیا ہے؟
جہلم کی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ یہاں مسلم لیگ (ن) ایک جماعت کم اور مختلف سیاسی سلطنتوں کا مجموعہ زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ نصف درجن کے قریب دھڑے اپنی اپنی سیاسی دکان سجائے بیٹھے ہیں۔ ہر دھڑے کے پاس اپنی الگ وفاداریاں، اپنے دعوے، اپنے کارکن اور اپنی قیادت کے سامنے اپنی اہمیت ثابت کرنے کے پیمانے موجود ہیں۔ جب وزیراعلیٰ کی آمد کا اعلان ہوتا ہے تو یہی دھڑے ایک دوسرے سے بڑھ کر استقبال کی تیاریاں کرتے ہیں، پھولوں کی پتیاں نچھاور کرنے، بینرز آویزاں کرنے اور اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ لیکن جیسے ہی سرکاری گاڑیوں کا قافلہ واپس روانہ ہوتا ہے، سیاسی اتحاد کا یہ عارضی غبارہ بھی ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے۔
یہی وہ تضاد ہے جس نے جہلم کے مخلص اور نظریاتی لیگی کارکنوں کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا ہے۔ وہ کارکن جنہوں نے مشکل ترین سیاسی ادوار میں جماعت کا پرچم تھامے رکھا، جنہوں نے اپنی جیب سے اخراجات کیے، گلی محلوں میں ووٹ مانگے اور قیادت کے فیصلوں کا دفاع کیا، آج خود کو سیاسی منظرنامے سے باہر محسوس کرتے ہیں۔ ان کے لیے سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ جماعت میں اختلافات موجود ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اختلافات کے باوجود کسی ایک دھڑے کو بھی جماعتی نظم و ضبط اور اجتماعی مفاد کی بالادستی قبول نہیں۔ کارکن دربدر ہیں، عوام مسائل کے حل کے لیے خوار ہیں اور سیاسی رہنما اپنی اپنی صف بندی کو ہی کامیابی تصور کیے بیٹھے ہیں۔
اب سوال مریم نواز شریف سے ہے!
کیا وزیراعلیٰ پنجاب جہلم پہنچ کر صرف استقبال کے ہجوم، نعروں کی گونج، پھولوں کی بارش اور خوش آمدیدی تقاریر سے اپنی سیاسی کامیابی کا سرٹیفکیٹ وصول کر لیں گی؟ کیا انہیں یہ دکھائی نہیں دے گا کہ جس جماعت کے کارکن کبھی قیادت کا اثاثہ ہوا کرتے تھے، آج وہی کارکن گروپ بندی، اقربا پروری کے الزامات اور سیاسی اجارہ داری کے تاثر کے باعث بددل ہو رہے ہیں؟ کیا ایک روزہ دورے میں چند گھنٹوں کی مصنوعی یکجہتی کو مستقل سیاسی اتحاد سمجھ لینا دانش مندی ہو گی؟
وزیراعلیٰ کو یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ سیاسی قوت کا اصل پیمانہ استقبالیہ جلسوں میں جمع ہونے والے سروں کی تعداد نہیں بلکہ انتخابات میں حاصل ہونے والا عوامی اعتماد ہوتا ہے۔ جہلم، جسے کبھی مسلم لیگ (ن) کا ناقابلِ تسخیر سیاسی قلعہ تصور کیا جاتا تھا، آج اپنی ہی جماعت کی اندرونی شکست و ریخت کا نوحہ بن چکا ہے۔ گزشتہ عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی دو نشستیں حاصل ہونے کے باوجود صوبائی اسمبلی کی تمام نشستوں پر شکست نے جماعت کی مقامی سیاسی گرفت کے بارے میں کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے۔ یہ محض چند انتخابی نشستوں کا نقصان نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی بحران کی علامت ہے جس کی جڑیں مقامی قیادت، باہمی اعتماد اور کارکنوں سے لاتعلقی میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔
جہلم کے عوام کے لیے بھی یہ منظر کسی تماشے سے کم نہیں۔ انہیں اپنے مسائل کے حل کے لیے کبھی ایک سیاسی شخصیت کے دفتر کا راستہ دکھایا جاتا ہے تو کبھی دوسرے دھڑے کے دروازے پر دستک دینے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ ترقیاتی کاموں کی رفتار، شہری سہولیات، صحت کے مسائل، ٹریفک، صاف پانی اور دیگر بنیادی ضروریات اپنی جگہ موجود ہیں، مگر سیاسی قیادت کی ترجیحات اکثر ایک دوسرے پر سبقت لے جانے اور اپنی اہمیت منوانے تک محدود دکھائی دیتی ہیں۔ عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر ایک جماعت اپنے ہی کارکنوں اور منتخب نمائندوں کو ایک میز پر نہیں بٹھا سکتی تو وہ شہر کے اجتماعی مسائل کیسے حل کرے گی؟
مریم نواز شریف کے لیے یہ دورہ محض ایک انتظامی سرگرمی نہیں بلکہ اپنی جماعت کی جہلم میں سیاسی نبض ٹٹولنے کا بہترین موقع بھی ہے۔ انہیں چاہیے کہ پروٹوکول کی چکاچوند اور استقبال کے شور سے نکل کر مقامی قیادت کو ایک میز پر بٹھائیں، ہر دھڑے کی بات سنیں، کارکنوں کی شکایات براہِ راست معلوم کریں اور واضح کریں کہ مسلم لیگ (ن) میں شخصیات کی اجارہ داری چلے گی یا جماعتی نظم و ضبط اور اجتماعی مفاد کو فوقیت حاصل ہو گی۔ انہیں یہ بھی طے کرنا ہو گا کہ پارٹی عہدے اور سیاسی اثرورسوخ ذاتی وفاداریوں کی بنیاد پر تقسیم ہوں گے یا کارکردگی، قربانی اور عوامی خدمت کو معیار بنایا جائے گا۔
کیونکہ سیاسی دھڑے وقتی طور پر ایک اسٹیج پر تو کھڑے ہو سکتے ہیں، مگر ایک جماعت نہیں بن سکتے، جب تک ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے اعتماد پیدا نہ ہو۔ استقبال کے لیے ہاتھ ملانا آسان ہے، مگر عوامی خدمت کے لیے ہاتھ بٹانا اصل امتحان ہے۔ بینرز پر ایک قیادت کی تصویر لگانا سہل ہے، مگر اپنی انا کو جماعتی مفاد کے تابع کرنا کہیں زیادہ مشکل۔
مریم نواز شریف اگر جہلم سے صرف پھولوں کے گلدستے، استقبالیہ نعروں اور خوش آمدیدی تقاریر کی یادیں لے کر واپس لوٹیں تو یہ دورہ بھی ماضی کے دوروں کی طرح ایک وقتی سیاسی سرگرمی بن کر رہ جائے گا۔ لیکن اگر وہ یہاں کی دھڑے بندی کے خاتمے، کارکنوں کی بحالی، مقامی قیادت کی جواب دہی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل دے کر جاتی ہیں تو شاید جہلم میں مسلم لیگ (ن) کے سیاسی زوال کو روکنے کی کوئی صورت نکل آئے۔
ورنہ یاد رکھیے! سیاسی قلعے مخالفین کے حملوں سے کم اور اندرونی سازشوں، انا پرستی اور اقتدار کی بندر بانٹ سے زیادہ مسمار ہوتے ہیں۔ جہلم کا سیاسی قلعہ بھی کسی بیرونی یلغار سے نہیں، اپنوں کی باہمی کھینچا تانی سے کمزور ہوا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ مریم نواز شریف جہلم میں صرف استقبال کی رونق دیکھنے آتی ہیں یا اپنی جماعت کے بکھرے ہوئے شیرازے کو سمیٹنے بھی آتی ہیں۔ کیونکہ جہلم کو ایک اور استقبالیہ جلسے کی نہیں، ایک سیاسی سرجری کی ضرورت ہے! اور یہ سرجری جتنی تاخیر سے ہو گی، مسلم لیگ (ن) کے لیے جہلم کا سیاسی زوال اتنا ہی گہرا ہوتا جائے گا۔


