جہلم: حکومتی احکامات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے شہر اور اس کے مضافاتی علاقوں میں بعض سرکاری اہلکاروں کے مبینہ گٹھ جوڑ کی وجہ سے کھلے عام پٹرول و گیس سلنڈروں کی غیر قانونی بھرائی کا دھندہ تسلسل سے جاری ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔محکمہ سول ڈیفنس کی جانب سے ان غیر قانونی اڈوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیاں محض کاغذوں کے محل تیار کرنے کے مترادف ہیں۔
خصوصی سروے کے دوران اندرون شہر اور مضافاتی علاقوں کی گنجان آبادیوں،سٹرکوںاور گلی محلوں میں کھلے پٹرول کی فروخت زور و شور سے جاری ہے۔ دکاندار کولڈڈرنکس وغیرہ کی خالی بوتلوں میں پٹرول بھر کر زائد نرخوں پر دیدہ دلیری کے ساتھ فروخت کر رہے ہیں۔
بیشتر مقامات پر بااثر دکانداروں نے ذاتی کنڈے باٹ لگا کر سلنڈروں کی غیر قانونی ری فلنگ اور خرید وفروخت کا دھندہ بھی شروع کر رکھا ہے۔ ماضی میں ان غیر قانونی اڈوں کیوجہ سے شہر سمیت مضافاتی علاقوں میں آتشزدگی اور دھماکوں کے درجنوں واقعات بھی رونما ہو چکے ہیں جس سے بیشتر افراد نہ صرف لقمہ اجل بنے بلکہ درجنوں افراد زندگی بھر کے لئے معزور ہو کر رہ گئے ہیں۔
محکمہ سول ڈیفنس کے افسران و اہلکار اور پولیس کی جانب سے موثر کارروائیاں نہ ہونے کے باعث ان غیر قانونی اڈوں پر شہریوں سے دکانداروں نے کھلے عام جان لیوا دھندے کا آغاز کررکھا ہے۔ جن کے خلاف انتظامیہ کی طرف سے کسی قسم کی کارروائیاں نہ کرناسمجھ سے بالا تر ہے۔
شہریوں کی کثیر تعداد نے ان غیر قانونی اڈوں کے خلاف فی الفور قانونی کارروائیاں کرنے کا پر زور مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب محکمہ سول ڈیفنس کے ملازمین کا موقف ہے کہ وقتاً فوقتاً ایسے عناصر کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں اور بے شمار غیر قانونی اڈے بند کروا چکے ہیں ، اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائیاں تواتر کے ساتھ جاری ہیں۔


