جہلم کے مختلف کاروباری مراکز اور اینٹوں کے بھٹوں کوئلے کی کانوں میں جبری مشقت کروائے جانے کا انکشاف، اینٹوں کے بھٹوںاور کوئلے کی کانوں پر خریدے گئے خاندان عرصہ دراز سے اینٹیںاور کوئلہ نکالنے میں مصروف، تعلیم و تربیت سے عاری مزدوروں کے بچے اور بزرگ تعلیم اور بنیادی سہولیات سے محروم، محکمہ لیبر اپنی آئینی ذمہ داریوں سے لاعلم ہے۔
تفصیلات کے مطابق جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں مختلف اینٹوں کے بھٹوں اور کوئلے کی مائنوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے خاندانوں کو خریدکر مشقت کروائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
بھٹہ مالکان اور کوئلے کی کانوں کے مالکان کی جانب سے مزدوروں کے خاندانوں کو پیشگی رقوم ادا کر کے باقاعدہ خرید لیا جاتا ہے اور ان کے بچے اور بوڑھے والدین پوری زندگی اینٹوں کی تیاریوں اور کوئلے کی مائنوں سے کوئلہ نکالنے میں مصروف رہتے ہیں۔ اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے بچوں کو تعلیم کے زیور سے محروم رکھا جا رہاہے۔
بچوں، عورتوں ، بزرگوں اور دیگر مزدوروں کے اہل خانہ کو سرکاری طور پر سوشل ویلفیئر اور دیگر سرکاری اداروں میں رجسٹرڈ نہیں کروایا جاتا اور اس طرح غیر قانونی طریقہ سے بچوں، عورتوں اور دیگر بزرگ مزدوروں سے محنت مشقت کروائی جاتی ہے۔
شہریوں نے لیبر ڈیپارٹمنٹ کی ناقص پالیسیوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری لیبر سے نوٹس لینے اور محکمہ لیبر جہلم کے ذمہ داران کو ضلع بدر کرنے اور فرض شناس ایماندار افسران کو تعینات کرنے اور مزدوروں کا استحصال کرنے والے مالکان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔


