جہلم میں مہنگائی عروج پر، کھلے دودھ کی قیمتوں میں بھی اضافہ

جہلم شہرسمیت ضلع بھر میں مہنگائی عروج پر ڈ بے والے دودھ کے ساتھ ساتھ کھلے دودھ کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا، دوسری جانب مو سمی سبزیو ں کی قیمتیں بھی آسما ن سے باتیں کر نے لگیں۔ روزا نہ کے استعما ل میں آنے والی سبزیاں، پیا ز، آلو، ٹماٹر، ادرک اور لہسن کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے دور ہو گئیں جبکہ انڈے اور برا ئلر گو شت کی قیمتو ں میں بھی استحکا م نہ لایا جا سکا۔

تفصیلات کے مطا بق شہر سمیت ضلع بھر میں مہنگائی نے پنجے گاڑ لئے، دودھ کی قیمتوں میں ایک دفعہ پھر سے اضا فہ کر دیا گیا اسی طرح کھلے دودھ کی قیمتیں بھی بڑھا دی گئیں۔

دوسری جانب موسمی سبزیوں کی بہتات ہونے کے باوجود سبزیوں کی قیمتوں میں استحکام نہیں لایا جا سکا اس کی وجہ سے روزانہ کے استعمال ہونے والی سبزیاں جن میں پیاز، آلو، ٹماٹر، ادرک، لہسن اور دیگر سبزیاں شامل ہیں ان کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں اور عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہو گئیں ہیں۔

اسی طرح روزمرہ استعمال ہونے والے دیگر اشیاء خورونوش جن میں انڈے اور برائلر گوشت شامل ہیں ان کی قیمتوں کو بھی کنٹرول میں نہیں لایا جا سکا۔اسی طرح بکرے کے گوشت کا سرکاری نرخ 1600روپے مقرر ہے جبکہ قصاب 2000 روپے میں فروخت کر رہے ہیں تا ہم چھوٹے اور بڑے گوشت کے نرخ بھی قصاب من مرضی کے وصول کرر ہے ہیں جس کی وجہ سے شہریوں نے ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کیاہے کہ سرکاری نرخوں کے مطابق قصابوں کو گوشت فروخت کرنے کا پابند بنایا جائے۔

شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں استحکام نہ آنے کی ایک بڑی وجہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کا فعا ل نہ ہونا ہے۔

اس حوالے سے بازاروں و منڈیوں میں خریداری کے لیے آئے صارفین کا کہنا ہے کہ مہنگائی ہے کہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہی روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں اضافہ ہونا معمول بن کر رہ گیا ہے اب تو ہر صبح ایسے ہی لگتا ہے کہ مہنگائی کا ایک نیا بم پھٹے گا۔ حکومتوں کی توجہ عوام کی فلاح و بہبود پر ہونے کی بجائے اپنی حکومتوں پرمرکوز ہے جس کیوجہ سے غریب عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button