برمنگھم: ظہور اسلام سے قبل پورا عرب معاشرہ اندھیروں میں ڈھوبا ہوا تھا، عرب بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے، آپﷺ کی آمد سے احترام انسانیت کو معراج مل گئی۔
ان خیالات کا اظہار خلیفہ صوفی صفدر حسین ہارونی، علامہ شفیق الرحمٰن چشتی نے میلاد النبی ﷺ کے جلوس و جلسہ میں کیا۔ دربار عالیہ موہڑہ شریف کے سجادہ نشین حضرت پیر ڈاکٹر گوہر نظیر گوہر کی سرپرستی میں سالانہ میلاد النبی ﷺ کاجلوس اور جلسہ جامع مسجد ہارونیہ کے زیر اہتمام نکالا گیا۔
جلوس اور جلسہ کی قیادت خلیفہ صفدر حسین ہارونی نے کی جبکہ داتاؒ کی نگری لاہور سے علامہ شفیق الرحمن چشتی،حافظ بشیر نقشبندی، قاری حنیف صابری،حافظ ابوبکر، علامہ عادل، علامہ ارشد، میاں اتحاد گڈو، راجہ جاوید اقبال ،صوفی محمد ایوب، حاجی یونس، محمد خالد، راجہ اسلم، خلیفہ مختار سمیت دیگر نے شرکت کی۔
جلوس برمنگھم کے ایشیائی اکثریتی علاقے آلم راک اور واشوڈ ہیتھ کی سڑکوں اور بازاروں سے گزرا تو فضا نبی کریمﷺ کی عظمت و شان کے نعروں سے گونج اٹھی، فرزندان اسلام کی بڑی تعداد جلوس میں شریک تھی۔
جلوس کے شرکاء کیلئے کھانے پینے کے سٹال بھی لگائے گئے تھے ،جلوس کی آمد پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے شرکا کا استقبال کیا جاتا رہا، گھڑ سوار بھی سبز پرچم لئے ہمراہ چلتے رہے، جلوس جامع مسجد ہارونیہ پر اختتام پذیر ہوا جہاں میلاد مصطفیٰﷺ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔
ثناء خوان مصطفیٰﷺ نے بارگاہ رسالتﷺ میں عقیدت کے پھول نچھاور کئے۔ علما کرام، مشائخ عظام اور مذہبی اسکالرز کا کہنا تھا کہ حضور نبی کریم ﷺکی سیرت اپنانے اور میلاد منانے کیلئے ہے۔ حضور نبی کریمﷺ کی روشن تعلیمات قیامت تک کیلئے مشعل راہ ہیں۔
مقررین کا میلاد کانفرنس اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حضور نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کے موقع پر میلاد النبی ﷺ کے جلوس و جلسہ سےایک طرف جہاں محبت و عقیدت کا اظہار ہوتا ہے وہاں نوجوان نسل کے دلوں میں حب رسول ﷺاجاگر کرنے کا موقع ملتا ہے۔
جلوس کے آغاز پر شرکاکیلئے میاں اتحاد گڈو اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے لاہوری ناشتے کا انتظام کیا گیا تھا۔


