جہلم: ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو سنیہ صافی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور ڈسٹرکٹ ایمرجنسی بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کے امدادی اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ حالیہ طوفانی بارشوں کے بعد متاثرہ علاقوں کی بحالی کے کام تیزی سے جاری ہیں جبکہ منگلا ڈیم میں اس وقت سات فٹ پانی کی مزید گنجائش موجود ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈیم کو بھرنے میں مزید دس دن لگ سکتے ہیں، جس کے بعد اضافی پانی کا اخراج معمول کے مطابق کیا جائے گا۔ فی الحال ضلع جہلم میں دریائے جہلم کے کنارے کسی بڑے سیلاب کا کوئی خطرہ موجود نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت منگلا ڈیم میں پانی کی آمد 45 ہزار کیوسک جبکہ اخراج 9 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ پانچ سال کے بعد ڈیم میں اتنی بڑی مقدار میں پانی جمع ہوا ہے، جو آنے والے مہینوں میں بجلی پیدا کرنے، فصلوں کی کاشت اور زیرِ زمین پانی کی سطح بلند کرنے کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگا۔
ریسکیو 1122 کے انچارج انجینئر سعید احمد نے اجلاس کو بتایا کہ ڈیم سے فی الحال بڑے پیمانے پر پانی کے اخراج کا امکان نہیں ہے، تاہم ضلعی انتظامیہ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور ایمرجنسی بورڈ نے ہر طرح کی تیاریاں مکمل کر رکھی ہیں تاکہ خدانخواستہ کسی ہنگامی صورتحال میں شہریوں کو ریسکیو کرنے اور ان کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو سنیہ صافی نے تمام محکموں کی تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ شہریوں کو کسی بھی صورت پریشانی کا سامنا نہیں کرنے دیا جائے گا۔


