Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • صفحۂ اول
  • جہلم
  • دینہ
    • منگلا
  • سوہاوہ
    • ڈومیلی
    • پڑی درویزہ
  • پنڈدادنخان
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • مزید
    • امیگریشن اور سفر
    • لائف اسٹائل
      • دلچسپ و عجیب
      • صحت
    • پاکستان
    • دنیا
    • ٹیکنالوجی
    • کاروبار
    • کھیل
    • تعلیم
    • سیاست
پڑھنا: برطانیہ میں فسادات کا باعث بننے والی ویب سائٹ کا صحافی لاہور سےگرفتار
شیئر کریں
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر
سرچ
  • صفحۂ اول
  • ضلع جہلمضلع جہلم
    • جہلم
    • دینہ
    • سوہاوہ
    • پنڈدادنخان
    • منگلا
    • ڈومیلی
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
    • پڑی درویزہ
  • بک مارکس
    • My Bookmarks
    • Customize Interests
  •  
    • پاکستان
    • اوورسیز پاکستانی
    • امیگریشن اور سفر
    • سیاست
    • کاروبار
    • کھیل
    • دنیا
    • صحت
    • تعلیم
  • کالم و مضامین
  • ٹیکنالوجی
    • موبائل فون
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں

برطانیہ میں فسادات کا باعث بننے والی ویب سائٹ کا صحافی لاہور سےگرفتار

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
20 اگست, 2024
شیئر کریں
شیئر کریں

برطانیہ میں فیک نیوز کے پھیلاؤ کے باعث رونما ہونیوالے حالیہ فسادات کی تحقیقات میں اہم پیش رفت میں لاہور پولیس نے پاکستان سے آپریٹ کی جانیوالی ویب سائٹ کے ایک صحافی کو گرفتار کرلیا ہے۔

ڈی آئی جی آپریشن فیصل کامران کے مطابق گرفتار کیے جانے والے شخص کو لاہور کے علاقہ ڈیفنس سے حراست میں لیا گیا ہے، جس کی شناخت شناخت فرحان آصف کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس افسران نے فرحان آصف سے مکمل تفتیش اور اس کا بیان قلم بند کر لیا ہے۔

فرحان آصف ایک نیوز پلیٹ فارم کے لیے کام کرتا ہے فرحان آصف پر الزام ہے کہ اس نے برطانیہ میں 3 بچیوں کے قاتل کی شناخت کے حوالے سے فیک نیوز ویب سائٹ پر پوسٹ کی جو برطانیہ میں فسادات کا باعث بنی۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مزید کارروائی اور اس کے ساتھ ملوث دیگر افراد تک رسائی کے لیے ملزم کو ایف آئی اے کے حوالے کر دیا گیا ہے کیس میں مزید تفتیش اور حقائق سامنے لانے کے لیے ایف آئی اے ازسر نو تفتیش کرے گی۔

واضح رہے کہ برطانیہ کے شہر ساؤتھ پورٹ کے ایک ڈانس اسکول میں گزشتہ ماہ ایک شخص نے حملہ کر کے 3 بچیوں کو قتل کر دیا تھا، اس واقعے میں 8 بچیوں اور 2 بالغ افراد سمیت 10 لوگ زخمی ہو گئے تھے، حملہ آور اگرچہ موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تاہم بعد میں پولیس نے اسے آلہ قتل سمیت گرفتار کر لیا تھا۔

برطانوی پولیس کے مطابق حملہ آور کی عمر 17 سال ہے اور کم سنی کے باعث اس کی شناخت ظاہر نہیں کی جا سکتی۔ البتہ برطانیہ میں یہ افواہ پھیل گئی کہ حملہ آور مسلمان تارک وطن تھا، اس واقعہ کے بعد برطانیہ بھر میں پناہ گزینوں کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے اور جھڑپوں میں پولیس اہلکاروں سمیت درجنوں لوگ زخمی ہو گئے تھے۔

ساؤتھ پورٹ حملے کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کو سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی جھوٹی خبروں سے شہہ ملی اور فیک نیوز پھیلانے میں ایک نیوز ویب سائٹ چینل 3 ناؤ کا کردار بھی سامنے آیا۔

تحقیقات کے دوران مذکورہ نیوز ویب سائیٹ کے لیے کام کرنے والے لوگوں کو تلاش کیا گیا جن کا تعلق دنیا کے مختلف ممالک سے ہے، جن میں ان میں سے ایک فرحان آصف بھی ہیں جو اس نیوز ویب سائیٹ کے لیے کام کرتے ہیں اور ان کا تعلق پاکستان کے شہر لاہور سے ہے۔

اس کے بعد مختلف نیوز ویب سائٹس پر حملہ آور سے متعلق غلط خبریں چلائی گئیں۔ چینل 3 ناؤ پر بھی ایسی ہی ایک خبر چلائی گئی جس میں بتایا گیا کہ پناہ گزین حملہ آور نے برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی درخواست دے رکھی ہے۔

مذکورہ خبر میں یہ بھی بتایا گیا کہ حملہ آور کچھ عرصہ قبل کشتی کے ذریعے برطانیہ پہنچا تھا، بعض دیگر پلیٹ فارمز پر بھی لکھا گیا کہ حملہ آور مسلمان ہے جس نے برطانوی بچیوں کو قتل کیا ہے۔

اس قسم کی فیک نیوز کے بعد برطانیہ بھر میں انتہائی دائیں بازو کے نظریات سے وابستہ تنظیمیں اور عام لوگ جو پناہ گزین مخالف سوچ رکھتے ہیں، سڑکوں پر نکل آئے اور پرتشدد مظاہروں کی شکل اختیار کر گئے، پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں کئی مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

مظاہرین مساجد پر حملہ کرنے پت اتر آئے جس سے برطانیہ میں مقیم مسلمان کمیونٹی عدم تحفظ کا شکار ہو گئی، بعد میں تحقیقات سے پتا چلا کہ برطانیہ میں ہونے والے فسادات میں کسی ایسے شخص کا بھی ہاتھ ہے جو پاکستان کے شہر لاہور میں بیٹھ کر چینل 3 ناؤ کے لیے کام کرتا ہے۔

تاہم اپنی گرفتاری سے قبل فرحان آصف نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایاتھا کہ چینل 3 ناؤ کی جانب سے جاری غلط خبر نہیں چلنی چاہیے تھی، لیکن ان کا موقف تھا کہ اس سارے معاملے کی تمام تر ذمہ داری ایک چھوٹی سی نیوز ویب سائیٹ پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ فرحان آصف کے مطابق متنازعہ فیک نیوز بنانے اور چلانے میں ملوث افراد کو نوکری سے برخاست کردیا گیا ہے۔

یہ مضمون شیئر کریں
Facebook Flipboard Pinterest Whatsapp Whatsapp Reddit Telegram لنک کاپی کریں
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمیں فالو کریں

FacebookLike
XFollow
PinterestPin
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
TiktokFollow
WhatsAppFollow
LinkedInFollow
SnapchatSubscribe
ThreadsFollow
BlueskyFollow
Weather
31°C
Jhelum
clear sky
31° _ 31°
26%
2 km/h
بدھ
31 °C
جمعرات
32 °C
جمعہ
33 °C
ہفتہ
33 °C
اتوار
34 °C

تازہ ترین

جہلم میں روہتاس روڈ پر ٹریکٹر ٹرالی اور موٹر سائیکل میں تصادم، 18 سالہ نوجوان جاں بحق
21 اکتوبر, 2026
جہلم میں جیولر کو قتل کرنے والا ملزم سی سی ڈی مقابلے میں ہلاک
21 اکتوبر, 2026
دینہ میں کار اور ایوری وین کے درمیان تصادم، خاتون اور دو بچے شدید زخمی
21 اکتوبر, 2026
ای پاسپورٹ بنوانے والوں کے لیے اہم خبر، اجرا کی تاریخ تبدیل
20 اکتوبر, 2026
حکومت پنجاب کا جاسوسی کے آلات اور خفیہ الیکٹرانک ڈیوائسز کے غیر قانونی استعمال کے خلاف کارروائی کا فیصلہ
20 اکتوبر, 2026

شاید آپ یہ بھی پڑھنا پسند کریں

دریائے جہلم سے ایک ہی دن میں دو نامعلوم خواتین اور ایک نوجوان کی لاشیں برآمد

12 دسمبر, 2024

سوزوکی آلٹو کے صارفین کیلئے خوشخبری

7 مئی, 2025

امریکی سیاستدان کے قتل کی سازش کا الزام، پاکستانی شہری پر فرد جرم عائد

7 اگست, 2024

محتسب پنجاب کے حکم پر سینکڑوں کنال سرکاری رقبہ واگزار کرا لیا گیا

21 اکتوبر, 2024

اشتہارات اور خبروں کیلئے جہلم اپڈیٹس سے رابطہ کریں۔

  • [email protected]
  • [email protected]
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں Follow us on Google News
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • Terms & Condition
  • About Us
  • Home

About US

The Largest News Network of Jhelum, Pakistan.
Quick Link
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر

Subscribe US

Subscribe to our newsletter to get our newest articles instantly!

[mc4wp_form]
Jhelum UpdatesJhelum Updates
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں