جہلم شہر اور گردونواح میں ناقص، مضر صحت اور غیر معیاری تیل کے استعمال سے تیار کیے جانے والے تلے ہوئے کھانوں کی فروخت میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے، جس سے شہریوں کی صحت داؤ پر لگ گئی ہے۔
مختلف علاقوں میں مچھلی، پکوڑے اور دیگر تلی ہوئی اشیاء فروخت کرنے والے دکاندار انتہائی گھٹیا، بار بار استعمال شدہ اور گندے تیل کا استعمال کر رہے ہیں، جس پر شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شہریوں کے مطابق متعدد دکاندار کم قیمت تیل خرید کر اسے بڑے ڈرموں میں ذخیرہ کرتے ہیں اور اسی تیل کو روزانہ بار بار گرم کر کے اشیاء تیار کرتے ہیں۔
ماہرینِ صحت کے مطابق اس طرح کے بار بار جلائے گئے تیل میں ایسے کیمیکلز پیدا ہوجاتے ہیں جو معدے، جگر اور دل کے امراض کے ساتھ ساتھ کینسر جیسے خطرناک مسائل کا بھی باعث بن سکتے ہیں۔ باوجود اس کے کہ یہ مسئلہ تیزی سے سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے، متعلقہ محکمے اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے کسی قسم کی مؤثر کارروائی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ذمہ داران کی عدم توجہی کے باعث یہ دھندہ بلا خوف و خطر جاری ہے۔ کئی مقامات پر دکانیں نالوں کے اوپر قائم ہیں، جہاں صفائی ستھرائی کا نام و نشان تک موجود نہیں، جبکہ دھوئیں، گردوغبار اور آلودہ ماحول میں کھانے تیار کر کے عوام کو فروخت کیے جا رہے ہیں۔
عوام نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر چیکنگ مہم چلائی جائے، ناقص تیل استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور شہریوں کی صحت کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔


