جہلم تا للِہ 128 کلو میٹر دو رویہ سڑک کی تعمیر تاخیر کا شکار ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حالیہ بارشوں کے بعد ضلعی ہیڈکوارٹر سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا، پبلک ٹرانسپورٹ بند اور شہریوں کو اضافی اخراجات اور وقت کے ضیاع کا سامنا کرنا پڑا۔
تفصیلات کے مطابق جہلم شہر اور گردونواح میں ہونے والی موسلادھار بارشوں نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ نکاسی آب کے مسائل اپنی جگہ مگر جہلم تا للِہ زیر تعمیر سڑک پر جگہ جگہ گڑھے بننے سے صورتحال مزید ابتر ہو جاتی ہے۔
بارش اور کیچڑ کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں تحصیل جہلم اور تحصیل پنڈدادنخان کے مکینوں کا ضلعی ہیڈکوارٹر سے رابطہ ٹوٹ جاتا ہے۔
شہریوں نے بتایا کہ متبادل راستہ نہ ہونے کے باعث وہ مجبوراََ کھاریاں اور سرائے عالمگیر کے راستے جہلم پہنچتے ہیں، جس سے نہ صرف کرایہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے بلکہ قیمتی وقت بھی ضائع ہوتا ہے۔ اس صورتحال سے ملازمین، مریض اور عام عوام شدید متاثر ہوتے ہیں۔
اتوار کے روز ہونے والی بارش نے ایک بار پھر علاقہ مکینوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا۔ شہریوں نے کہا کہ زیر تعمیر سڑک کی وجہ سے ہر روز انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔
عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ جہلم تا للِہ دو رویہ سڑک کی تعمیر جلد از جلد مکمل کروائی جائے تاکہ عوام کو روز بروز بڑھتی ہوئی مشکلات سے نجات دلائی جا سکے۔


