دبئی: متحدہ عرب امارات کی ویزہ ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کے لیے ہزاروں نوکریاں دستیاب ہیں، کمپنیاں ایمنسٹی سینٹرز میں ہی انٹرویو کرکے نئے کارکنوں کی خدمات حاصل کرنے لگیں۔
دی نیشنل نیوز کے مطابق دو ماہ پر مشتمل ویزہ ایمنسٹی سکیم کے تحت متحدہ عرب امارات میں اپنے قیام کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش کرنے والے افراد کو ملازمتوں کی پیشکش کی جا رہی ہے، دبئی کے العویر سنٹر میں نجی کمپنیاں لوگوں کی خدمات حاصل کرنے اور روزگار کے ویزوں میں مدد کر رہی ہیں۔
جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ریذیڈنسی اینڈ فارن افیئرز ( جی ڈی آر ایف اے ) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل محمد احمد المری نے بتایا کہ پرائیویٹ سیکٹر کی کمپنیوں کو ملازمتوں کے لیے لوگوں سے انٹرویو کرنے کے لیے مدعو کیا گیا ہے، ہم نے 15 سے زیادہ کمپنیوں کو ملازمتوں کے لیے لوگوں کے انٹرویو کے لیے مدعو کیا، جب تک ہم ان کے مسائل حل نہیں کر لیتے ہم چوبیس گھنٹے کام کریں گے اور رکیں گے نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگوں کو دھوکہ دہی سے ملازمت کا وعدہ کرکے متحدہ عرب امارات لایا گیا تھا، ہم ان لوگوں کے زیادہ قیام کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ان کے قریب رہنا چاہتے ہیں، میں جانتا ہوں کہ ان کا مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب وہ جعلی بھرتی کرنے والوں کے ذریعے ملازمت حاصل کرنے کے وعدے کے ساتھ اپنے ملک چھوڑ کر امارات آئے لیکن اب وہ گھر واپس نہیں جا سکتے کیوں کہ انہوں نے اپنے گھر والوں سے نوکری حاصل کرنے اور ایک باوقار زندگی فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، اس لیے وہ خالی ہاتھ واپس نہیں جا سکتے، ہمیں ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیئے اور ان کی حمایت کرنی چاہیئے، یہ متحدہ عرب امارات ہے، ایک ایسا ملک جو ان کا خیال رکھے گا۔
بتایا جارہا ہے کہ العویر میں جی ڈی آر ایف اے کے دفتر کے باہر رات گزارنے والے پاکستانی حمزہ گل نے کئی کمپنیوں کی توجہ حاصل کی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی آفر لیٹر وصول کرنے والوں میں سے ایک بن گیا، وہ ان سینکڑوں غیر قانونی رہائشیوں میں شامل ہے جو بہتر مستقبل کے لیے اپنی حیثیت قانونی بنانے کے لیے العویر میں اتھارٹی کے دفتر میں پہنچے۔
معلوم ہوا ہے کہ 31 اگست کو حمزہ گل العویر میں جی ڈی آر ایف اے کے دفتر کے باہر پہنچا اور جاری ایمنسٹی پروگرام کے دوران اپنی حیثیت کو باقاعدہ بنانے کی امید میں رات سڑکوں پر گزاری، مہینوں کی غیر یقینی صورتحال اب زندگی کو بدلنے والے موقع پر ختم ہو گئی ہے کیوں کہ اسے ملازمت مل چکی ہے، اپنی پچھلی نوکری کھونے کے بعد اس نے مہینوں مستحکم رہائش کے بغیر گزارے دوستوں کی سخاوت پر انحصار کیا اور یہاں تک کہ کئی بار سڑکوں پر سونے کا بھی سہارا لیا، اس کا ویزہ منسوخ ہونے اور ملازمت کے امکانات نہ ہونے کے باعث حمزہ گل کی امیدیں اس وقت تک کم ہوتی جا رہی تھیں جب تک کہ ایمنسٹی پروگرام نے اسے انتہائی ضروری ریلیف فراہم نہیں کیا۔
حمزہ گل نے کہا کہ "جب مجھے بتایا گیا کہ مجھے نوکری کی پیشکش کی گئی ہے تو میں اس پر یقین نہیں کر سکا، میری ہر مشکل کے بعد یہ واقعی ایک نعمت ہے، ایسا لگتا ہے کہ میری زندگی آخرکار بہتری کی طرف مُڑ رہی ہے کیوں کہ اب تک میں مکمل طور پر کھو گیا تھا اور مجھے نہیں معلوم تھا آگے کیا کرنا ہے، لیکن اب اس موقع کی بدولت میں نئے سرے سے شروعات کر سکتا ہوں، یہ ملازمت میرے لیے صرف ایک کام سے زیادہ ہے، یہ میری زندگی کو دوبارہ بنانے کا موقع ہے”۔


