Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • صفحۂ اول
  • جہلم
  • دینہ
    • منگلا
  • سوہاوہ
    • ڈومیلی
    • پڑی درویزہ
  • پنڈدادنخان
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • مزید
    • امیگریشن اور سفر
    • لائف اسٹائل
      • دلچسپ و عجیب
      • صحت
    • پاکستان
    • دنیا
    • ٹیکنالوجی
    • کاروبار
    • کھیل
    • تعلیم
    • سیاست
پڑھنا: گھر داماد بن کے یورپ آنے والے لڑکوں کی خاموش کراہیں
شیئر کریں
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر
سرچ
  • صفحۂ اول
  • ضلع جہلمضلع جہلم
    • جہلم
    • دینہ
    • سوہاوہ
    • پنڈدادنخان
    • منگلا
    • ڈومیلی
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
    • پڑی درویزہ
  • بک مارکس
    • My Bookmarks
    • Customize Interests
  •  
    • پاکستان
    • اوورسیز پاکستانی
    • امیگریشن اور سفر
    • سیاست
    • کاروبار
    • کھیل
    • دنیا
    • صحت
    • تعلیم
  • کالم و مضامین
  • ٹیکنالوجی
    • موبائل فون
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں

گھر داماد بن کے یورپ آنے والے لڑکوں کی خاموش کراہیں

عفت حسن رضوی
عفت حسن رضوی
20 اپریل, 2024
شیئر کریں
شیئر کریں

نجانے لڑکیوں کو پاکستان سے باہر بیاہنے کا شوق والدین میں اب بھی قائم ہے یا ختم ہو گیا، لیکن آج کا موضوع باہر بیاہ کر آنے والی لڑکیوں کی ہائے ہائے نہیں، گھر داماد بن کر یورپ آنے والے لڑکوں کی وہ خاموش کراہیں ہیں جو وہ مارے شرمندگی اور جھینپ کے کسی کو سناتے نہیں۔

میں نے اپنے گذشتہ کالمز میں ذکر کیا ہے کہ ان دنوں ناروے میں پاکستانی کمیونٹی کے حوالے سے ایک سائنسی ریسرچ پروجیکٹ کا حصہ ہوں جس کا مقصد ناروے آنے والے پاکستانیوں کی پہلی اور دوسری نسل کے مردوں کے خیالات جانچنا ہے کہ وہ خواتین، صنفی بنیاد پہ تشدد، صنفی بنیاد پہ ذمہ داریوں کی تقسیم اور مردانگی کی فرسودہ سوچ کے حوالے سے کیا رائے رکھتے ہیں۔

اس ریسرچ کے دوران کمیونٹی کے چند ایک ایسے مردوں سے ملنا ہوا جو بطور گھر داماد ناروے آئے تھے اور پھر جو ان کے ساتھ ہوا وہ ہر گھر داماد کی اپنی کہانی ہے۔

انٹرویوز میں یورپ کے پاکستانی گھردامادوں نے جو کہانیاں سنائیں وہ کم نہ تھیں کہ پھر ایک فارن سسرال میں واجبی سے پڑھے لکھے گھر داماد کا حشر نشر ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور سوچا بہتر ہے کہ امریکہ، یورپ ، کینیڈا اور آسڑیلیا کا شارٹ کٹ ڈھونڈنے والے لڑکوں کو کچھ کان ہوجائے۔

جس کا ذکر ہے یہ گھر داماد گذشتہ کئی برسوں سے مختلف ہوٹلوں میں مزدوری کررہا ہے، کزن میرج ہوئی تھی تاہم اس شادی میں بظاہر پاکستانی نژاد نارویجن لڑکی کی مرضی شامل نہیں لگتی کیونکہ دونوں کی شخصیت اور تعلیم میں واضح فرق ہے۔

جبکہ ایک دوسرے سے برتاؤ میں برابری بالکل نہیں، یہ ماسڑ اور گیراج پہ کام کرتے چھوٹے کا سا رشتہ لگا۔ اس گھر داماد کو گاڑی چلانا سکھایا گیا ہے لیکن نارویجن زبان روانی سے نہیں آتی یا پھر سیکھنے کا موقع نہیں ملا۔

اس گھر داماد کے بچے ہیں لیکن بچے فرفر نارویجن زبان بولتے ہیں اور ماں کے قریب ہیں جبکہ اردو بولتے باپ کے ساتھ بچوں کی ہچکچاہٹ نظر آئی۔

واضح نظر آرہا تھا کہ گھرمیں ہونے والی کسی بھی بات چیت میں اس گھر داماد کو شامل نہیں کیا جاتا، کئی بار اس گھر جانا ہوا اور ہر بار اس گھر داماد کو کام سے واپس آنے کے بعد کھانا پکاتے اور ٹیبل لگاتے ہوئے ہی دیکھا۔

ایک صاحب نے بتایا کہ بطور گھر داماد ان کے پاس کئی سال گزارنے کے باوجود ناروے میں مستقل سکونت کے مکمل دستاویزات نہیں تھے کیونکہ بیگم ہر بار کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے ٹال دیتیں۔

ایک پڑھے لکھے پاکستانی تارک وطن نے جب بتایا کہ وہ پاکستان سے گھر داماد بن کر آئے تو ان کا پاسپورٹ کئی برس تک ان کے سسر کے پاس تھا تو مجھے لگا کہ یونہی سسرال والوں کی خار نکال رہے ہیں لیکن بعد میں یہی طریقہ واردات ایک اور پاکستانی مرد کی زبانی سُنا۔

یہ پڑھے لکھے گھر داماد تھے لیکن سُسر کے بھائی نے ایک بلڈنگ کی صفائی کا ٹھیکہ لے رکھا تھا یوں یہ سوئیڈن میں دو سال تک ایک عمارت میں جھاڑو لگاتے رہے، ٹوائلٹ صاف کرتے رہے۔

تصاویر سے تو لگتا ہے کہ لڑکا باہر گیا اور جاتے ہی سسرال کے ملٹی ملین ڈالرز کے بزنس کا مالک بن گیا، بیگم ماڈرن اور بچے فارن نیشنل، لیکن تصاویر کا کیا ہے، وہ تھوڑا ہی کرب و مصیبت کے قصے سناتی ہیں۔

ایک صاحب جو نارویجن شہری بن چکے ہیں لیکن گھر داماد کا مضحکہ خیز ٹھپہ ان کے مطابق ان کا پیچھا نہیں چھوڑ رہا۔

ان کے مطابق ان کی کزن کے ساتھ گھر والوں نے شادی کرائی تاکہ لڑکا باہر سیٹل ہوجائے اور کمائے لیکن ان کی بیگم کے لیے یہ ایک زبردستی کرائی جانے والی شادی تھی۔

یہ دونوں 15 برس سے ساتھ ہیں لیکن ان صاحب کے مطابق انہیں بیگم کی جانب سے پولیس بلاکر اندر کرانے کی دھمکی گاہے بگاہے ملتی رہتی ہے۔

یہاں ایک ایسے پی ایچ ڈی سکالر سے بھی ملاقات ہوئی جو اعلیٰ تعلیم کے لیے سکینڈینیویا آئے، پاکستانی نژاد جرمن خاتون سے شادی کی اور گھر داماد بن کر یورپ میں سسرال کے کھانے کے بزنس میں لگے ہیں۔

ان کے ساتھی بتاتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کے سارے کس بل ابتدا میں ہی نکال دیے گئے تھے، اس لیے وہ ان 20 برسوں میں صرف ایک بار اپنے والد کے مرنے پہ پاکستان گئے۔

پاکستانی گھر داماد چاہے جتنے مجبور ہوں لیکن ہیں تو مرد، جنہیں پاکستانی معاشرے نے مردانگی کی مخصوص روایات سکھائی ہوتی ہیں تو یہ مرد پھر کیوں کسی کی زور زبردستی برداشت کرتے ہیں؟

تو کہانی ہے سیدھی سی، یہ لڑکے پاکستان سے رخصت ہو کر سسرال کا گھر آباد کرنے نہیں کمانے آتے ہیں تاکہ پاکستان میں بیٹھے گھر والوں کو پیسے بھیج سکیں اور اسی مجبوری کو فارن میں بیٹھا سسرال اچھی طرح سمجھتا ہے۔

گھر دامادوں کی کہانی کا دوسرا رخ تب شروع ہوتا ہے جب یہ بیرون ملک سسرال میں دبے رہ کر اپنا وقت کاٹ لیتے ہیں لیکن جیسے ہی انہیں نیشنلٹی ملتی ہے پھر یہی گھر داماد لڑکی کے ناک میں دم کرکے ہی جان چھوڑتے ہیں۔ یہ بھی ایک تحقیق طلب سماجی مسئلہ ہے۔

آن لائن رشتہ کرانے والے پلیٹ فارمز میں انٹرنیشنل رشتوں کی الگ دکان سجی ہے جہاں 25 سے 30 سال کے انجنیئر، ڈاکٹر، آئی ٹی، ایم بی اے، ڈپلومہ ہولڈر، کم سے کم گریجویٹ اور ہنرمند کا رشتہ سب سے زیادہ ڈیمانڈ میں ہے۔

لیکن شارٹ کٹ یورپ کے شوقینوں کو شاید علم نہیں جن میں تپڑ ہو وہ ُترکی سے ڈنکی لگاتے ہیں، لیکن جنہیں گھر داماد بن کر یورپ جانے کا شوق ہو پھر ان کی کئی برس روزانہ سسرال میں ڈنکی لگتی ہے۔

 

 

 

 

 

 

(نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے جہلم اپڈیٹس کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)
یہ مضمون شیئر کریں
Facebook Flipboard Pinterest Whatsapp Whatsapp Reddit Telegram لنک کاپی کریں
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمیں فالو کریں

FacebookLike
XFollow
PinterestPin
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
TiktokFollow
WhatsAppFollow
LinkedInFollow
SnapchatSubscribe
ThreadsFollow
BlueskyFollow
Weather
28°C
Jhelum
broken clouds
28° _ 28°
44%
2 km/h
اتوار
27 °C
پیر
30 °C
منگل
34 °C
بدھ
32 °C
جمعرات
31 °C

تازہ ترین

جہلم میں انٹرنیٹ کی ناقص صورتحال، طلبہ اور کاروباری طبقہ پریشان
10 اکتوبر, 2026
جہلم: منشیات فروشی کے مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر مجرم وقار حفیظ کو 7 سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا
10 اکتوبر, 2026
پی ٹی آئی لانگ مارچ؛ جہلم میں سکیورٹی سخت، 75 کارکن گرفتار، لیہ اور میانوالی جیل منتقل
10 اکتوبر, 2026
دریائے جہلم کے کناروں پر سائبیریا سمیت سرد علاقوں سے مہمان پرندوں کی آمد شروع
10 اکتوبر, 2026
پراپرٹی ٹیکس کے مسائل کے حل کے لیے ایکسائز آفیسر منور حسین کا سوہاوہ کا دورہ، شہریوں کے مسائل سنے
10 اکتوبر, 2026

شاید آپ یہ بھی پڑھنا پسند کریں

یورپی یونین، بلجیم اور لکسمبرگ میں سفیر پاکستان کی دونوں ملکوں کی کمیونٹی کے ساتھ کھلی کچہری

28 جولائی, 2024

جہلم تا للِہ دو رویہ سڑک کی تعمیر تاخیر اور ناقص انتظامات کے باعث شہریوں کے لیے عذاب بن گئی

18 اکتوبر, 2025

پنڈدادنخان میں چوری اور اقدام قتل کے مقدمات میں ملوث دو خطرناک ملزمان گرفتار

5 جون, 2025

یو اے ای کی ترقی دنیا کے لئے ایک مثال ہے، میاں منیر ہانس

8 دسمبر, 2023

اشتہارات اور خبروں کیلئے جہلم اپڈیٹس سے رابطہ کریں۔

  • [email protected]
  • [email protected]
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں Follow us on Google News
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • Terms & Condition
  • About Us
  • Home

About US

The Largest News Network of Jhelum, Pakistan.
Quick Link
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر

Subscribe US

Subscribe to our newsletter to get our newest articles instantly!

[mc4wp_form]
Jhelum UpdatesJhelum Updates
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں