Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • صفحۂ اول
  • جہلم
  • دینہ
    • منگلا
  • سوہاوہ
    • ڈومیلی
    • پڑی درویزہ
  • پنڈدادنخان
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • مزید
    • امیگریشن اور سفر
    • لائف اسٹائل
      • دلچسپ و عجیب
      • صحت
    • پاکستان
    • دنیا
    • ٹیکنالوجی
    • کاروبار
    • کھیل
    • تعلیم
    • سیاست
پڑھنا: انتخابی مہم کو سوشل میڈیا کے ذریعے عام کرنے کے رجحان میں خاصا اضافہ
شیئر کریں
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر
سرچ
  • صفحۂ اول
  • ضلع جہلمضلع جہلم
    • جہلم
    • دینہ
    • سوہاوہ
    • پنڈدادنخان
    • منگلا
    • ڈومیلی
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
    • پڑی درویزہ
  • بک مارکس
    • My Bookmarks
    • Customize Interests
  •  
    • پاکستان
    • اوورسیز پاکستانی
    • امیگریشن اور سفر
    • سیاست
    • کاروبار
    • کھیل
    • دنیا
    • صحت
    • تعلیم
  • کالم و مضامین
  • ٹیکنالوجی
    • موبائل فون
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں

انتخابی مہم کو سوشل میڈیا کے ذریعے عام کرنے کے رجحان میں خاصا اضافہ

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
21 جنوری, 2024
شیئر کریں
شیئر کریں

پاکستان میں سنہ 2018 کے الیکشن کے بعد انتخابی مہم اور پارٹی کے بیانیے کو سوشل میڈیا کے ذریعے عام کرنے کے رجحان میں خاصا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، سوشل میڈیا اب عام آدمی تک رسائی کے لیے ہر سیاسی جماعت کی ضرورت بن چکا ہے۔

الیکشن 2024 کی انتخابی مہم کے لیے سیاسی جماعتیں اور امیدوار ماضی کی نسبت سوشل میڈیا کا استعمال زیادہ کر رہے ہیں اور اس پر بھاری رقوم بھی خرچ کی جا رہی ہیں لیکن الیکشن کمیشن کے پاس سوشل میڈیا پر انتخابی مہم چلانے کے اخراجات کو چیک کرنے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔

انتخابات کے انعقاد میں چند ہفتے رہ گئے ہیں اور سیاسی جماعتیں الیکشن مہم میں مصروف ہیں۔ آج کے سوشل میڈیا دور میں الیکشن مہم کے روایتی طریقوں سے کہیں زیادہ سوشل میڈیا پر مہم چلانے کو ترجیح دی جا رہی ہے، جدید دور کے ڈیجیٹل ووٹرز کے لیے ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے سیاسی مہم چلانا انتہائی اہم ہو چکا ہے۔

مسلم لیگ(ن)، تحریک انصاف، پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی، جمعیت علما اسلام، ایم کیو ایم سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے سوشل میڈیا ونگ بنا رکھے ہیں اور لاکھوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ الیکشن میں حصہ لینے والی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں الیکشن مہم کے لیے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کر رہی ہیں۔ گزشتہ ماہ پی ٹی آئی نے تو پہلی بار ورچوئیل جلسہ بھی کیا ہے۔

مرکزی سوشل میڈیا ونگ کے علاوہ مقامی طور پر قومی اور صوبائی اسمبلی کے امیدواروں نے بھی اپنی اپنی سوشل میڈیا ٹیمیں بنائی ہیں۔ جو پارٹی قیادت کے بیانات کے کلپ سمیت امیدوار کی سرگرمیوں بارے پوسٹیں اور ویڈیوز فیس بک، انسٹاگرام اور سب سے بڑھ کر وٹس ایپ پر شیئر کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر اشتہاری مہم چلانے کے دو طریقہ کار ہیں، پہلا یہ کہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ جیسے فیس بک، ایکس، انسٹاگرام اور یوٹیوب پر اپنے پیغام، اشتہار کی ویڈیو اور تصاویر بغیر کسی معاوضے کے شیئر کی جائیں جبکہ دوسرا طریقہ کار یہ ہے کہ رقم خرچ کرکے اپنی پوسٹ کی ریچ بڑھائی جائے۔ اپنی پوسٹ کو بوسٹ کروانے کے لیے ریچ اور دورانیہ کے مطابق آپ کو رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔ پوسٹ کو بوسٹ کروانے کی فیس پانچ ڈالر روزانہ سے لے کر ہزاروں ڈالر تک ہوسکتی ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق ملک میں 87 اعشاریہ 35 ملین لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جبکہ سوشل میڈیا یوزر کی تعداد 71 اعشاریہ 70 ملین ہے جو پاکستان کی مجموعی آبادی کا 30 اعشاریہ 1 فیصد ہے۔ سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں میں 73فیصد مرد جبکہ 27 فیصد خواتین ہیں۔

پی ٹی اے کے مطابق پاکستان سب سے زیادہ انٹرنیٹ 56 اعشاریہ 3 فیصد فیس بک کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ 20. اعشاریہ 48 فیصد وٹس ایپ، 11 اعشاریہ 76 فیصد سنیپ چیٹ، 5 اعشاریہ 38 فیصد انسٹاگرام اور 1 اعشاریہ 76 فیصد ٹوئٹر صارفین کرتے ہیں جبکہ 39 فیصد انٹرنیٹ یوٹیوب یوزر اور 15 اعشاریہ 71 فیصد ٹک ٹاک پر استعمال ہوتا ہے۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان ندیم حیدر نے ایکسپریس ٹربیون کو بتایا کہ انتخابات میں قومی اسمبلی کے امیدوار کسی بھی اشتہاری مہم پر ایک کروڑ روپے جبکہ صوبائی اسمبلی کے امیدوار سیاسی مہم پر 40 لاکھ روپے تک ذاتی حیثیت سے خرچ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ امیدواروں کو پابند کیا گیا ہے کہ انتخابی مہم کے اخراجات کے لیے نیا بینک اکاؤنٹ کھولیں یا پھر اگر وہ پہلے سے موجود بینک اکاؤنٹ استعمال کرنا چاہیں تو متعلقہ ریٹرنگ افسر کو انتخابی مہم شروع کرنے سے پہلے بینک کی تفصیلات اور بینک اسٹیٹمنٹ جمع کروائیں گے۔ انتخابی تشہیر خواہ وہ اخبارات، ٹی وی پر اشہارات ہوں، پوسٹر پرنٹ کروائیں جائیں یا پھر سوشل میڈیا پر تشہیر کریں اس کے لیے اخراجات کی حد مقرر ہے لیکن اخراجات کے لیے کوئی کیٹیگری نہیں بنائی گئی۔

ندیم حیدر نے یہ بھی بتایا کہ اگر کسی امیدوار کا کوئی سپورٹر اور رشتہ دار اس کی اشتہاری مہم چلاتا ہے تو اس کا ذمہ دار بھی امیدوار ہی ہوگا اور وہ اسے کی طرف سے تصور کی جائے گی، کامیاب امیدوار اخراجات کی تفصیل پولنگ کے 10دن میں جمع کرائے گا۔

میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی نامی غیر سرکاری ادارے کے بانی سربراہ اسد بیگ کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن ٹی وی یا پرنٹ کی اشتہاری مہم کو مانیٹر تو کر سکتا ہے لیکن سوشل میڈیا کو مانیٹر کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی امیدوار سوشل میڈیا سیل بناتا ہے یا پھر بیرونی فنڈنگ سے سوشل میڈیا پر انتخابی مہم چلائی جاتی ہے خاص طور پر کوئی بیرون ملک بیٹھ کر وہاں سے ہی پاکستان میں کسی سیاسی جماعت یا امیدوار کی انتخابی مہم چلاتا ہے تو الیکشن کمیشن کے پاس اس کو مانیٹر کرنے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ میں گزشتہ پانچ سال یہ کہہ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن کی جانب سوشل میڈیا مہم کے لیے لائحہ عمل بنایا جانا چاہیے لیکن ابھی تک کوئی نطام نہیں بنایا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس میں اہم عنصر بیرون ملک سے سوشل میڈیا مہم کی فنڈنگ ہے۔ کچھ سوشل میڈیا ٹرینڈز کا جو انہوں نے مشاہدہ کیا ہے تو ایک سیاسی جماعت کے سیاسی مہم باہر سے بھی چلائی جاتی رہی ہے۔

اسد بیگ نے بتایا کہ اس کا ایک اہم مسئلہ نفرت اور اشتعال انگیز تقاریر اور مواد کا ہے جو سوشل میڈیا پر شیئر کیا جاتا ہے، اس کے لیے سیاسی جماعتوں کی جانب سے سیلف ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اشتہاری مہمات پر پیسے لگانے کی مانیٹرنگ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے وہ چیک کرے کہ کسی بھی ڈیجیٹل مہم کے لیے پیسہ کہاں سے آتا اور کون اسے چلا رہا ہے۔

مسلم لیگ ن نے سوشل میڈیا کے محاذ پر انتخابی مہم چلانے کے لیے کیا حکمت عملی اپنائی ہے، اس بارے مسلم لیگ ن کے سوشل میڈیا کے سربراہ عاطف روف رانا نے متعدد بار رابطہ کرنے پر کوئی جواب نہیں دیا تاہم مسلم لیگ (ن) پنجاب کی سیکریٹری اطلاعات اعظمی زاہد بخاری کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کی طاقت اور اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ سیاسی سرگرمیوں کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال بڑھ رہا ہے بلکہ یہ ضرورت بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر تشہیر کے لیے بے تحاشا پیسہ خرچ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بہت پہلے یہ ڈیزائن بنا لیا تھا اور اسی وجہ سے وہ سوشل میڈیا پر سب سے آگے ہیں۔ ان (پی ٹی آئی) کے زیادہ تر فالور بیرون ملک بیٹھے ہیں جو وہاں بیٹھ کر سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی جماعت کی تشہیر اور مخالفین کے خلاف پراپیگنڈا کر رہے ہیں حتیٰ کہ ان لوگوں نے ملک اور ملک کے قومی اداروں کے خلاف بھی مہم چلا رکھی ہے۔

اعظمی زاہد بخاری کہتی ہیں کہ سوشل میڈیا کی صورتحال یہ پیسہ پھینک تماشہ دیکھ والی ہے، آپ جتنا پیسہ لگائیں گے اتنے ہی زیادہ ویوز لے سکتے ہیں، اتنے ہی زیادہ پوسٹ ریچ بڑھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے مرکز سے لیکر صوبائی اسمبلی کے حلقے تک ٹیمیں تشکیل دی ہیں، جبکہ والینٹیرز بھی شامل کیے ہیں۔ لیکن ہماری پالیسی واضع ہے کہ ہم کسی سوشل میڈیا کا درست استعمال کریں گے۔ پوسٹ ریچ اور ویوز بڑھانے کے لیے بوسٹ نہیں لگائے جائیں گے اور اس کام کے لیے ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کریں گے۔

پی ڈی ایم کے دور حکومت میں یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ اتحادی حکومت نے میڈیا تشہیر کے لئے 10 ارب روپے خرچ کیے ہیں جن میں سے ایک ارب 23 کروڑ روپے سوشل میڈیا کے لیے تھے تاہم اعظمی بخاری کہتی ہیں کہ ان کی جماعت کے پاس خیرات، زکوٰۃ اور صدقے کے پیسے نہیں ہیں کہ سوشل میڈیا کے لیے اس طرح پیسہ بہایا جائے۔

اسی طرح دینی سیاسی جماعتوں میں جماعت اسلامی سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ متحرک ہے۔ جماعت اسلامی نے کئی برسوں سے ایک مکمل سوشل میڈیا ونگ قائم کر رکھا ہے جہاں درجنوں نوجوان کام کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے ترجمان اور مرکزی سیکریٹری اطلاعات قیصر شریف نے بتایا کہ جماعت اسلامی نے کم و بیش 10 سال قبل سوشل میڈیا ونگ قائم کیا تھا اور آج مرکز، صوبوں سمیت یونین کونسل سطح تک سوشل میڈیا ٹیمیں موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے جماعت کی شوریٰ کی منظوری سے ایس اوپیز طے ہیں جن کے تحت کسی کے خلاف نازیبا اور تضحیک آمیز پوسٹ کی جائیں گی اور نہ ہی ایسے کمنٹس کرنے کی اجازت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کم وبیش تین ہزار سے زائد سوشل میڈیا کارکنوں کو ٹریننگ دی گئی ہے۔ سوشل میڈیا ونگ کے لئے ہرسال باقاعدہ بجٹ رکھا جاتا ہے جو کہ بہت محدود ہے۔ کمپیوٹرز، کیمروں کی خریداری، انٹرنیٹ، پروڈکشن اور ڈرون کے لئے بجٹ مختص ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی مرکزی سوشل میڈیا ٹیم میں خواتین سمیت 25 سے زائد افراد شامل ہیں جن میں کیمرہ مین، ڈرون آپریٹر، این ایل ای، اسکرپٹ رائٹر اور دیگر لوگ شامل ہیں۔ الیکشن کے حوالے سے بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل میڈیا کمپین کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔

یہ مضمون شیئر کریں
Facebook Flipboard Pinterest Whatsapp Whatsapp Reddit Telegram لنک کاپی کریں
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمیں فالو کریں

FacebookLike
XFollow
PinterestPin
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
TiktokFollow
WhatsAppFollow
LinkedInFollow
SnapchatSubscribe
ThreadsFollow
BlueskyFollow
Weather
26°C
Jhelum
clear sky
26° _ 26°
31%
1 m/s
اتوار
29 °C
پیر
29 °C
منگل
31 °C
بدھ
31 °C
جمعرات
30 °C

تازہ ترین

سوہاوہ: ڈومیلی موڑ کے قریب مزدا ٹرک اور موٹر سائیکل میں تصادم، 51 سالہ شخص جاں بحق
7 نومبر, 2026
ضلع جہلم سے 15 نومبر کو آل پاکستان اہلِ حدیث کانفرنس میں بڑا قافلہ شرکت کرے گا، حافظ عبدالحمید عامر
7 نومبر, 2026
مریم نواز حکومت کا للِہ تا جہلم دو رویہ سڑک منصوبے سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا مسلم لیگ نون کا فارم 45 سے ہے، فواد چوہدری
7 نومبر, 2026
سوہاوہ: ڈومیلی پولیس کی کارروائی، بیوی کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں شوہر گرفتار
7 نومبر, 2026
پنڈدادنخان کے محمدی چوک میں ہوٹل کے اسٹور روم آتشزدگی، ریسکیو 1122 نے قابو پا لیا
7 نومبر, 2026

شاید آپ یہ بھی پڑھنا پسند کریں

پنڈدادنخان میں جائیداد کے تنازع پر بھائی نے بھائی کی جان لے لی

17 اپریل, 2024

انسٹاگرام کا ٹک ٹاک کے مقابلے کی ایپ متعارف کرانے کا امکان

2 مارچ, 2025

پنڈدادنخان میں منشیات فروش کو جرم ثابت ہونے پر 14 سال قید اور جرمانے کی سزا

28 ستمبر, 2024

پنڈدادنخان میں پولیس کو چوری کی جھوٹی اطلاع دینے والا ملزم گرفتار

27 جنوری, 2026

اشتہارات اور خبروں کیلئے جہلم اپڈیٹس سے رابطہ کریں۔

  • [email protected]
  • [email protected]
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں Follow us on Google News
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • Terms & Condition
  • About Us
  • Home

About US

The Largest News Network of Jhelum, Pakistan.
Quick Link
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر

Subscribe US

Subscribe to our newsletter to get our newest articles instantly!

[mc4wp_form]
Jhelum UpdatesJhelum Updates
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں