جہلم: جیسے جیسے عید الفطر قریب آ رہی ہے درزیوں کے پاس رش میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا۔ شہرسمیت ملحقہ علاقوں میں اکثر و بیشتر درزیوں نے سلائی کی بکنگ بند کردی اور دکانوں کے باہر بورڈ بھی آویزاں کر دئیے گئے۔
درزیوں مبشر توصیف، ملک حسیب، محمد دانش چوہدری اسماعیل ، نعیم مغل، محمد ندیم، یاسر نوید نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کپڑے سلائی کرنے کا کام تو بہت ہے لیکن مرمت کے نام پر بجلی کی اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے سارا نظام درہم برہم کرکے رکھ دیا ہے کیونکہ 24 گھنٹوں کے دوران جب چاہیں واپڈا والے بجلی بند کردیتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال مردانہ سوٹ کی سلائی 700 روپے سے 1000 روپے تک تھی ، رواں سال درزی ایک مردانہ سوٹ 1200 روپے سے لے کر 1500 روپے تک سلائی کر رہے ہیں، بڑے بازاروں میں ایک مردانہ سوٹ 1500 روپے سے اڑھائی ہزار روپے تک سلائی ہوتا ہے، اگر سوٹ کڑھائی والا سلوایا جائے تو اس کی قیمت میں مزید اضافہ کردیا جاتا ہے۔
قیمتوں کے حوالے سے ٹیلر ماسٹرز کا کہنا تھا کہ دھاگے کی نلکی ، بکرم، بٹن اور دیگر استعمال کی اشیاء اتنی مہنگی ہو چکی ہیں کہ خرچہ پورا کرنا مشکل ہوتا جارہاہے، بجلی کے بل، قینچی، سلائی مشین، کاج، اوورلاک کروانے سمیت دیگر کاموں پر بھی رقم خرچ ہوتی ہے۔
درزیوں نے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ چھوٹے دکانداروں کو بجلی کی فی یونٹ کے نرخوں میں کمی کی جائے تاکہ چھوٹے دکاندار محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں ۔


