جہلم: حکومت پنجاب نے مالی سال 2026-27 کے آغاز کے ساتھ ہی مختلف ٹیکسوں میں اضافے کا عمل شروع کر دیا ہے، جس کے تحت گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور کمرشل گاڑیوں کے مالکان پر اضافی مالی بوجھ عائد ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق متعدد فیسوں اور ٹیکسوں میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ متعلقہ ایکسائز حکام کو تاحال باضابطہ نوٹیفکیشن موصول نہیں ہوا، تاہم نئے ریٹس کا اطلاق آن لائن سسٹم میں کر دیا گیا ہے۔
ایکسائز ذرائع کے مطابق ماضی میں بینک لیز (ہائر پرچیز) مکمل ہونے کے بعد گاڑی یا موٹر سائیکل کی ملکیت منتقل کرانے کے لیے صرف ٹرانسفر فیس ادا کرنا ہوتی تھی اور لیز ختم کرانے کی کوئی علیحدہ فیس مقرر نہیں تھی، تاہم نئے مالی سال میں پہلی مرتبہ لیز ختم کرانے کی الگ فیس نافذ کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق 1200 سی سی تک گاڑیوں کی لیز ختم کرانے کی فیس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، تاہم 1200 سے 1800 سی سی گاڑیوں کی فیس 2 ہزار روپے سے بڑھا کر 9 ہزار 75 روپے کر دی گئی ہے۔ اسی طرح 1800 سی سی یا اس سے بڑی گاڑیوں کی فیس 3 ہزار روپے سے بڑھا کر 18 ہزار 150 روپے مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہیوی اور کمرشل گاڑیوں کی فیس 4 ہزار روپے سے بڑھا کر 9 ہزار 75 روپے کر دی گئی ہے۔
اسی طرح گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی ملکیت منتقلی (ٹرانسفر فیس) میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ موٹر سائیکل کی ٹرانسفر فیس 500 روپے سے بڑھا کر 910 روپے، ایک ہزار سی سی تک گاڑیوں کی فیس 2 ہزار 750 روپے سے بڑھا کر 4 ہزار 540 روپے، 1000 سے 1800 سی سی گاڑیوں کی فیس 5 ہزار 500 روپے سے بڑھا کر 9 ہزار 75 روپے جبکہ 1800 سی سی سے زائد گاڑیوں کی ٹرانسفر فیس 11 ہزار روپے سے بڑھا کر 18 ہزار 150 روپے کر دی گئی ہے۔ اسی طرح ہیوی اور کمرشل گاڑیوں کی ٹرانسفر فیس 5 ہزار روپے سے بڑھا کر 9 ہزار 75 روپے مقرر کی گئی ہے۔
ایکسائز ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں بھی نمایاں اضافے کی تیاری کی جا رہی ہے، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
شہریوں اور گاڑی مالکان نے نئے ٹیکسوں اور فیسوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مالی بوجھ کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیکس پالیسی پر نظرثانی کی جائے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔


