جہلم شہر کی سبزی و فروٹ منڈی شدید بدانتظامی کے باعث کچرے اور گندے چھپڑ میں تبدیل ہو چکی ہے، جس سے حکومتِ پنجاب کی ’’ستھرا پنجاب‘‘ مہم کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ منڈی کے مختلف حصوں میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر اور کھڑا ہوا بدبودار پانی دکانداروں، خریداروں اور علاقہ مکینوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق راولپنڈی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (RWMC)، واسا اور دیگر متعلقہ انتظامی اداروں کی عدم توجہی کے باعث سبزی و فروٹ منڈی کی حالت دن بدن بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ صفائی کا کوئی باقاعدہ اور مؤثر نظام دکھائی نہیں دیتا جبکہ نکاسی آب کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے معمولی بارش یا پانی کے استعمال سے جگہ جگہ چھپڑ بن جاتے ہیں، جو بعد ازاں تعفن اور بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
منڈی میں موجود دکانداروں کا کہنا ہے کہ گندگی اور بدبو کے باعث خریدار منڈی کا رخ کرنے سے کتراتے ہیں، جس سے ان کا کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے۔ دکانداروں کو سارا دن گندے پانی اور کچرے کے درمیان بیٹھ کر روزگار کمانا پڑتا ہے جبکہ مکھیاں اور مچھر وبائی امراض کو دعوت دے رہے ہیں۔
خریداروں اور علاقہ مکینوں نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ سبزی و فروٹ منڈی سے گزرنا دوبھر ہو چکا ہے۔ بزرگ شہریوں، خواتین اور بچوں کو خاص طور پر مشکلات کا سامنا ہے جبکہ پھسلن اور بدبو کے باعث حادثات کا خدشہ بھی ہر وقت موجود رہتا ہے۔
شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیں، سبزی و فروٹ منڈی میں مستقل بنیادوں پر صفائی کا نظام بحال کیا جائے، نکاسی آب کے مسائل حل کیے جائیں اور متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا پابند بنایا جائے تاکہ عوام اور تاجروں کو ریلیف مل سکے۔


