جہلم: ضلع جہلم میں حساس اداروں کی نشاندہی پر مبینہ طور پر جعلی طریقے سے پاکستانی شناختی کارڈ بنوانے والے افغان باشندوں کے خلاف کارروائی تیز کر دی گئی ہے۔ نادرا نے کارروائی کرتے ہوئے جعلی طریقے سے بنوائے گئے 228 پاکستانی شناختی کارڈز منسوخ کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق 12 مئی کو 118 جبکہ 24 جون کو مزید 110 شناختی کارڈز منسوخ کیے گئے، جس کے بعد منسوخ کیے جانے والے شناختی کارڈز کی مجموعی تعداد 228 ہو گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جعلی پاکستانی شناختی کارڈز رکھنے والے تقریباً 100 افغان باشندوں کو گرفتار کرکے افغانستان ڈیپورٹ کیا جا چکا ہے، جبکہ دیگر مشتبہ افراد کی تلاش کے لیے ضلع کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشنز جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے کی نشاندہی کے بعد ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل جہلم کے دفتر کی جانب سے نادرا ہیڈکوارٹرز کو متعدد مراسلے ارسال کیے گئے، جس کے بعد نادرا نے مشکوک شناختی کارڈز کی جانچ پڑتال اور منسوخی کا عمل مکمل کیا۔
دوسری جانب نادرا نے پنجاب میں پاکستانی شناختی کارڈ غیرقانونی طور پر رکھنے کے شبہے میں مزید 741 افراد کو نوٹسز جاری کیے ہیں۔ نادرا کے علاقائی دفتر کی جانب سے جاری ابتدائی فہرست میں ضلع جہلم اور اس کی مختلف تحصیلوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔
نادرا کی جانب سے نامزد افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 15 روز کے اندر اپنے متعلقہ نادرا زونل دفتر میں پیش ہو کر شناخت اور شہریت سے متعلق ضروری دستاویزات فراہم کریں تاکہ ان کے شناختی کارڈز کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جا سکے۔
نادرا حکام کے مطابق مقررہ مدت کے اندر پیش نہ ہونے والے افراد کے شناختی کارڈ بلاک کیے جا سکتے ہیں جبکہ مشکوک شناختی دستاویزات رکھنے والے افراد اور ان سے متعلق دیگر معاملات میں قانون کے مطابق مزید کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق جعلی اور مشکوک شناختی دستاویزات کے خلاف جاری کارروائی کے دوران یہ معاملہ سامنے آیا ہے کہ بعض افغان باشندوں نے مبینہ طور پر غیرقانونی طریقے سے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کیے۔ حکام کی جانب سے ایسے افراد کی شناخت اور قانونی حیثیت کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کارروائی کا مقصد قومی شناختی نظام کو محفوظ بنانا، جعلی شناختی دستاویزات کا خاتمہ اور غیرقانونی طور پر حاصل کیے گئے پاکستانی شناختی کارڈز کے خلاف قانونی کارروائی یقینی بنانا ہے۔


