جہلم شہر اور گردونواح میں مبینہ طور پر غیر رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنرز اور عطائی افراد کی سرگرمیوں پر شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے فوری اور بلاامتیاز کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں بعض میڈیکل سٹورز مبینہ طور پر علاج گاہوں کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جہاں غیر رجسٹرڈ افراد مریضوں کا معائنہ، ادویات تجویز کرنے، انجکشن لگانے اور ڈرپ چڑھانے جیسے طبی امور انجام دے رہے ہیں۔ عوامی حلقوں کے مطابق ایسے افراد کے پاس مطلوبہ طبی اہلیت یا رجسٹریشن موجود نہیں ہوتی، جس سے مریضوں کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
شہریوں نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ بعض میڈیکل سٹورز پر مبینہ طور پر نشہ آور ادویات، گولیاں اور انجکشن بھی غیر قانونی طور پر فروخت کیے جا رہے ہیں، جس سے نوجوان نسل کے متاثر ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ تاہم ان الزامات کی متعلقہ اداروں کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ عطائیت نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی جانوں سے کھیلنے کے مترادف بھی ہے، کیونکہ غلط تشخیص، غیر معیاری ادویات اور غیر تربیت یافتہ افراد کے علاج کے باعث مریضوں کی صحت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، صوبائی وزیر صحت، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری صحت پنجاب، پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر اور ضلع بھر میں مبینہ غیر قانونی میڈیکل پریکٹس کرنے والے مراکز اور میڈیکل سٹورز کی مؤثر انسپکشن کی جائے، غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے اور عوام کو محفوظ طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔


