جہلم: ماہ صیام کی آمد سے قبل جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے شہریوں بالخصوص متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔
آٹا، چینی، گھی، دالیں، چاول، سبزیاں، پھل، گوشت اور کھجور سمیت بیشتر ضروری اشیاء کے نرخ پچھلے کئی روز سے مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں جبکہ تحصیل دینہ، سوہاوہ اور پنڈدادنخان میں ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کی شکایات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بازاروں میں سرکاری نرخنامے آویزاں ہونے کے باوجود ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر سال رمضان المبارک سے قبل مصنوعی مہنگائی پیدا کر دی جاتی ہے، جبکہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کارروائیاں وقتی اور غیر مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ چند دنوں کی کارروائی کے بعد گراں فروش دوبارہ من مانے نرخ وصول کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
دوسری جانب دکانداروں کا موقف ہے کہ تھوک مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے کے باعث پرچون سطح پر نرخ کم کرنا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق سپلائی چین کی کمزور نگرانی، ذخیرہ اندوزی اور مارکیٹ مافیا کی سرگرمیاں مہنگائی کی بڑی وجوہات ہیں، اور اگر بروقت اور سخت اقدامات نہ کیے گئے تو رمضان المبارک کے دوران قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
شہری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مارکیٹوں اور بازاروں کی روزانہ کی بنیاد پر سخت چیکنگ کی جائے، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے، سستے رمضان بازار قائم کیے جائیں اور شکایتی نظام کو مؤثر بنایا جائے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مستقل نگرانی اور تسلسل کے بغیر مہنگائی پر قابو پانا ممکن نہیں۔


