جہلم: محکمہ صحت کے بنیادی مراکز صحت کو آؤٹ سورس کرنے کے خلاف ملازمین میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔
اطلاعات کے مطابق محکمہ صحت کے سینکڑوں بنیادی مراکز صحت کو ٹھیکے پر دیا جا رہا ہے، جس کے باعث سرکاری ملازمین کے روزگار پر خطرات منڈلانے لگے ہیں۔ ملازمین کو خدشہ ہے کہ ان کی جگہ ٹھیکیدار اپنے ملازمین رکھیں گے، جس سے موجودہ میڈیکل عملے کی نوکریاں داؤ پر لگ سکتی ہیں۔
محکمہ صحت کے متاثرہ ملازمین نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جہلم سمیت پنجاب بھر کے بنیادی مراکز صحت میں تقریباً 50 سے 60 ہزار ملازمین خدمات سر انجام دے رہے ہیں، اور حکومت کے اس فیصلے سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار خطرے میں پڑ جائے گا۔
ملازمین کا کہنا تھا کہ آؤٹ سورسنگ کے اس عمل سے ٹھیکیدار من مانی کریں گے اور سرکاری ملازمین کو بے روزگار کر دیا جائے گا، جو کہ سراسر زیادتی کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فیصلے پر نظرثانی کرے اور ہزاروں ملازمین کے مستقبل کو محفوظ بنائے۔
اس معاملے پر محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ وضاحت یا ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ملازمین نے احتجاج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کے خدشات دور نہ کیے گئے تو وہ کسی بھی سخت اقدام سے گریز نہیں کریں گے۔


