دبئی نے مخصوص شعبے کیلئے گولڈن ویزہ کا حصول آسان کردیا

دبئی: متحدہ عرب امارات نے گولڈن ویزہ کے لیے دبئی میں جائیداد کے مالکان کے لیے مطلوبہ کم سے کم ادائیگی کی شرط ختم کردی۔

خلیج ٹائمز کے مطابق دبئی میں گولڈن ویزہ کے اہل ہونے کے لیے پراپرٹی کے خریداروں کو اب 10 لاکھ درہم کی کم از کم ادائیگی کی ضرورت نہیں ہے، اگر جائیداد کی قیمت 20 لاکھ درہم سے زیادہ ہے تو ادائیگی کے منصوبے یا رہن کا انتخاب کرنے والے مالکان طویل مدتی ویزہ کیلئے درخواست دے سکتے ہیں، تمام گولڈن ویزہ ہولڈرز کی طرح انہیں بھی 10 سال کی مدت کے لیے اپنے شریک حیات، بچوں اور والدین کو اسپانسر کرنے کی سہولت حاصل ہوگی۔

دبئی سے تعلق رکھنے والی پروفاؤنڈ بزنس سروس کے منیجنگ ڈائریکٹر فیروزخان نے وضاحت کی ہے کہ شرائط میں نرمی کے بعد دبئی میں پراپرٹی کا مالک اب ڈاؤن پیمنٹ کی مد میں ادا کی جانے والی کسی بھی رقم سے قطع نظر 10 سالہ گولڈن ویزہ کے لیے درخواست دے سکتا ہے، اس کے لیے درخواست دہندگان کو جائیداد کی ٹائیٹل ڈیڈ، ڈویلپر کا خط یا بینک سے رہن کی دستاویز اور ایک تصویر کے ساتھ اپنے پاسپورٹ کی کاپی جمع کروانی ہوگی جب کہ آف پلان پراپرٹیز پر کیس ٹو کیس کی بنیاد پر غور کیا جائے گا۔

Allsopp & Allsopp گروپ میں سیلز پروگریشن کے سربراہ جیس سٹیفنسن نے بھی تصدیق کی ہے کہ دبئی میں پراپرٹی کے خریداروں کو اب 10 لاکھ درہم کی کم از کم ادائیگی کی ضرورت نہیں ہے، گولڈن ویزہ حاصل کرنے کے لیے اہلیت کا معیار اب صرف یہ ہے کہ سرمایہ کاروں کو 20 لاکھ درہم یا اس سے زیادہ مالیت کی پراپرٹی خریدنی ہوگی، یہاں کوئی کم از کم ایکویٹی سرمایہ کاری درکار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے گولڈن ویزہ حاصل کرنے کی راہ ہر اس شخص کے لیے کھل جاتی ہے اگر وہ جائیداد کی قیمت کا 20 فیصد ادا کرتے ہیں جو دبئی میں زیادہ تر لوگ رہن کے لیے کرتے ہی ہیں اس لیے اب وہ گولڈن ویزہ کے اہل ہوں گے، اس اقدام سے بہت سے خریداروں اور صارفین کو فائدہ ہوگا، یہ گولڈن ویزہ آپشن ہر اس شخص کے لیے کھلتا ہے جس نے پراپرٹی خریدی ہے کیوں کہ دبئی میں زیادہ تر جائیدادوں کی قیمت 20 لاکھ درہم سے زیادہ ہی ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button