جہلم: حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات میں کمی کے باوجود سیکرٹری ڈسٹرکٹ روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی، چیئرمین ڈسٹرکٹ روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی / ڈپٹی کمشنر جہلم لاری اڈہ سے دیگر شہروں کے درمیان چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ اور اندرون شہر چلنے والے رکشوں کے کرایوں میں کمی نہ کرواسکے، مسافر سراپا احتجاج ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے رواں ماہ تیسری مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرکے شہریوں کو ریلیف مہیا کیا ہے لیکن سیکرٹری ڈسٹرکٹ روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے اس حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کررکھی ہے جس کیوجہ سے ٹرانسپورٹرز اور رکشہ ڈرائیورز من مرضی کے کرائے وصول کرکے مسافروں کی جیبوں کا صفایا کر رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے پہلے ہی کمر توڑ کررکھ دی ہے۔ دوسری جانب انتظامیہ شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے میں مکمل لا تعلقی اختیار کئے ہوئے ہے، یکم جون کو وفاقی حکومت نے تیسری مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا جس پر عملدرآمد شروع ہو گیا لیکن ٹرانسپورٹرز اور رکشہ ڈرائیورمسافروں کو ریلیف فراہم کرنے کی بجائے سرکاری کی چھتری تلے مال بناؤ پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
مسافروں نے چیئرمین ڈسٹرکٹ روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی، ڈپٹی کمشنر اور ایڈوائزر صوبائی محتسب پنجاب جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے مقررہ کردہ کرایوں فی کلو میٹر فی مسافر کے حساب سے سٹاپ ٹو سٹاپ کرایوں میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے اور اس پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے تاکہ غریب سفید پوش دیہاڑی دار طبقہ حکومتی ریلیف سے مستفید ہو سکے۔


