جہلم: عید الفطر کے موقع پر کھلونا نما اسلحہ کی فروخت عروج پر رہی،بچے گروپ بنا کر ایک دوسرے پر ربڑ کی گولیاں برساتے رہے ۔ عیدالفطر کے موقع پر اندرون شہر سمیت ملحقہ علاقوں میں اکثرو بیشتر بچے گلی ،محلوں میں اپنی کھلونا نما بندوقوں سے ایک دوسرے کو نشانہ بناتے نظر آئے۔ بچوں نے گاڑیوں،موٹر سائیکلوں ودیگر روایتی کھلونوں کے بجائے اسلحہ نما کھلونوں کو خریدنے کو ترجیح دینا شروع کردی ہے۔
تفصیلات کے مطابق عید الفطر کے موقع پر کھلونا پستول، بندوقیں ،کلاشنکوف ، چھروں کی فروخت عروج پر رہی۔ شہر کے مختلف علاقوں میں کھلے عام کھلونا نما پستولیں ،بندوقیں ، کلاشنکوف وغیرہ فروخت کی جاتی رہیں ۔کھلونا نما بندوقوں میں ٹی ٹی پستول، ریوالور، ماؤزر، کلاشنکوف، ایم پی فائیو، ایس ایم جی، ایل ایم جی، اوزی، ایم16، رپیٹر اور دیگر اسلحہ نما کھلونے فروخت کئے جاتے رہے۔
ان بندوقوں میں بچوں میں سب سے زیادہ مقبول گن کلاشنکوف تھی۔ کھلونا نما بندوقوں کے تمام فنکشنز اصلی بندوقوں کی طرح کام کررہے تھے۔بعض کھلونا بندوقوں میں لیزر لائٹس بھی نصب تھیں جو رات کے اوقات میں ٹھیک نشانہ لگانے میں مدد دیتی ہیں،شہر کی دکانوں میں مختلف سائز کی یہ بندوقیں، پستول 150روپے سے 5000 روپے تک فروخت کئے جاتے رہے۔
اس حوالے سے شہری تنظیموں کے عمائدین کا کہنا ہے کہ کھلونا نما پستول و بندوقوں سے بچوں کے ذہنوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ،کھلونا نما پستول سے معصوم ذہنوں میں تشدد کا رجحان جنم لیتا ہے۔دوسری جانب ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ کھلونا نما بندوقوں کے چھرے آنکھوں کی بینائی بھی ضائع کرسکتے ہیں۔
شہری تنظیموں کے عمائدین نے ڈی پی او جہلم سے مطالبہ کیاہے کہ اسلحہ نما کھلونے فروخت کرنے والے دکانداروں کو اسلحہ نما کھلونے فروخت کرنے سے منع کیا جائے تاکہ بچوں میں منفی رجحانات جنم نہ لے سکیں ۔


