25 سالہ ماڈل کی مونگ پھلی والے بسکٹ کھانے سے موت

امریکہ میں 25 برس کی ایک برطانوی ماڈل بسکٹ کھانے کی وجہ سے ہونے والی الرجی کے باعث ہلاک ہو گئی ہیں۔

ماڈل اور رقاصہ اورلا بیگزینڈیل نے امریکہ میں ’لیو سٹیورڈ‘ نامی سٹور سے بسکٹ خریدے جس کے پیکٹ پر یہ درج نہیں تھا کہ اس کے اجزائے ترکیبی میں مونگ پھلی بھی شامل تھی۔

برطانوی ماڈل کو مونگ پھلی سے شدید الرجی تھی اور بسکٹ کھانے کے نتیجے میں اسی الرجی کے سبب اُن کی موت واقع ہو گئی۔

لیو سٹیورڈ سٹور کی انتظامیہ اور امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن اتھارٹی نے اس کمپنی کے بسکٹس کو مارکیٹوں سے ہٹوا دیا ہے جنھیں کھانے کے باعث ماڈل کی موت ہوئی۔

لیو سٹیورڈ نامی سٹور کی جانب سے برطانوی ماڈل کی موت کے حوالے سے جاری ایک ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ اس بسکٹ کے تقریباً 500 پیکٹ فروخت ہوئے تھے اور انھوں نے اپنے گاہکوں کو پیغام دیا ہے کہ وہ خریدے ہوئے بسکٹ سٹور کو واپس کر دیں۔

برطانوی ماڈل کے خاندان کا کہنا ہے کہ اورلا نے یہ بسکٹ امریکی ریاست کنیکٹیکٹ میں کھائے تھے جہاں وہ ایک ڈانس کمپنی کے تحت ’ایلس اِن دا ونڈرلینڈ‘ کے ایک میوزیکل ورژن پر کام کر رہی تھیں۔

اُن کے خاندان کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی مونگ پھلی سے ہونے والی الرجی کا ’ہمیشہ خیال رکھتی تھیں‘ اور وہ کبھی اپنے ایپی پین کے بغیر گھر سے باہر نہیں نکلتی تھیں۔

اورلا کو بچانے کے لیے ایپی پین کا استعمال کیا گیا لیکن وہ جانبر نہیں ہو سکیں اور 11 جنوری کو وفات پا گئیں۔

اورلا کا آبائی تعلق لنکاشائر سے ہے لیکن وہ 2018 میں ماڈلنگ میں اپنا کیریئر بنانے کے لیے نیو یارک منتقل ہو گئی تھیں۔

سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے تعزیت نامہ میں کہا گیا ہے کہ وہ ’ایک دلکش بیلٹ، جدید اور آئرش سٹیپ ڈانسر تھِیں‘ جو کہ اپنے جوش و جذبے اور خوبصورتی کی وجہ سے جانی جاتی تھیں۔

اورلا 2018 میں ماڈل کی دنیا میں اپنا کیریئر بنانے نیو یارک منتقل ہو گئی تھیں

لیو سٹیورڈ سٹور کی انتظامیہ جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے پاس موجود بسکٹس میں مونگ پھلی اور انڈا شامل ہے جس کے حوالے سے معلومات پیکٹ پر درج نہیں تھیں۔

ان کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ جن افراد کو ان اجزا سے الرجی وہ یہ بسکٹ کھانے سے پرہیز کریں کیونکہ یہ ان کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

کنیکٹیکٹ ڈپارٹمنٹ آف کنزیومر پروٹیکشن کمشنر کی جانب سے برطانوی ماڈل کی موت کو ’دل توڑ دینے والا سانحہ‘ قرار دیا گیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ وفاقی اور ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر ’ایسے مزید واقعات کی روک تھام‘ کے لیے کام کر رہا ہے۔

اس حوالے سے سٹیو لیونارڈ کے صدر اور چیف ایگزیکٹیو افسر سٹیو لیونارڈ جونیئر نے بسکٹ بنانے والی کمپنی پر الزام لگایا ہے کہ اُن کی جانب سے اجزا میں ’سویا نٹس کے بجائے مونگ پھلی‘ کا استعمال کیا گیا اور ان کی کمپنی کے چیف سیفٹی افسر کو اس تبدیلی کے حوالے سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

لانگ آئی لینڈ میں واقع بسکٹ بنانے والی کمپنی کوکیز یونائیٹڈ نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے بسکٹ کے اجزا میں کی جانے والی تبدیلی کے حوالے سے سٹیو لیونارڈ کی انتظامیہ کو جولائی 2023 میں آگاہ کر دیا تھا۔

سٹور انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اُن کے پاس موجود بسکٹس میں مونگ پھلی اور انڈا شامل ہے

کمپنی کے وکیل کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں اُن کی طرف سے بھیجی گئی تمام مصنوعات پر لیبلز چسپاں کیے گئے تھے جس پر بسکٹ میں استعمال ہونے والے اجزا کی تفصیلات درج تھیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ بسکٹ سٹیو لیونارڈ سٹور میں جا کر ری پیکج ہوئے اور وہیں ان پر غلط لیبلز لگائے گئے۔

اورلا کے خاندان کے وکیل نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اورلا کی موت بسکٹ فروخت کرنے اور بنانے والوں کی سنگین لاپرواہی کے سبب واقع ہوئی۔‘

لیکن اب تک اورلا کے خاندان کی جانب سے کسی کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کروایا گیا ہے۔

اورلا کے خاندان کا کہنا ہے کہ برطانوی ماڈل اپنی ڈانس کمپنی مومکس کے ساتھ ایک بین الاقوامی دورے پر جانے کی تیاری کر رہیں تھیں۔

ان کی طرف سے مزید کہا گیا ہے کہ ’سچ تو یہ ہے کہ اورلا نے 25 برسوں میں وہ زندگی جی جو ہم پوری زندگی میں نہیں جی سکے اور اب ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے۔‘

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button