للِہ تا جہلم ڈیول کیرج وے کا تسلی بخش کام شروع نہ ہوا تو مکمل طور پر پوری تحصیل کو بند کر دیں گے، علامہ بشیر احمد کرم

پنڈدادنخان: علامہ بشیر احمد کرم نے کہا کہ پانچ جنوری تک للِہ تا جہلم ڈیول کیرج وے کا کام تسلی بخش طریقے سے شروع نہ ہونے کی صورت میں مکمل طور پر پوری تحصیل کو جام کر دیا جائے گا۔

للِہ تا جہلم ڈیول کیرج وے ورکنگ کمیٹی کی پریس کانفرنس دارلعلوم محمدیہ رضویہ میں ہوئی، میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے علامہ بشیر احمد کرم نے تازہ ترین حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے ورکنگ کمیٹی کے تمام ممبران کی موجودگی میں آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا۔

علامہ بشیر احمد کرم ورکنگ کمیٹی کی جانب سے محمدیہ رضویہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تمام ورکنگ کمیٹی کے ممبران یہاں پر تشریف فرما ہیں، سب کی طرف سے پہلے ہم تمام صحافی برادری کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جو ہماری درخواست پر یہاں تشریف لائے۔ ہم اللہ کریم کے شکر گزار ہیں کہ جس نے پیر محمد انور قریشی کی صورت میں ایک صاحب درد اور صاحب بصیرت شخصیت کی سرپرستی ہم سب کو حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ 30 نومبرکو قبلہ پیر محمد انور قریشی نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے سے للِہ جہلم روڈ کے حوالے سے جس مشن کا اعلان کیا تھا ورکنگ کمیٹی نے رات دن محنت کر کے تحصیل بھر میں اسے ایک مضبوط تحریک بنایا جس کا عمومی حلقے گمان بھی نہیں کر سکتے تھے۔ صرف دو ہفتوں کی لگاتار محنت سے للِہ تا جہلم روڈ کی تحریک ہر گھر، ہر گلی، ہر محلہ، ہر گاؤں اور ہر شہر میں موضوع بحث بنی جس کا نظارہ 15 دسمبر 2023 جمعۃ المبارک کے دن تحصیل پنڈ دادنخان کی سطح پر ایک منظم شٹر ڈاؤن پہیہ جام ہڑتال اور ایک پرامن احتجاج کی صورت میں سامنے آیا۔

علامہ بشیر احمد کرم نے کہا کہ للِہ جہلم روڈ کی تعمیر جو کہ خواب نظر آرہا تھا پیر محمد انور قریشی کی سرپرستی اور ورکنگ کمیٹی کی مسلسل محنت کے باعث اب ایک حقیقت بنتی نظر آرہی ہے، یہ جدوجہد کسی بھی سیاسی جماعت، سیاسی رہنماکی طرف سے نہ ہوئی اور نہ ہی یہ کسی سیاسی جماعت اور سیاسی رہنما کی طرف سے ایسی منظم تحریک ممکن تھی۔ اب جبکہ ورکنگ کمیٹی اپنی کوششوں سے 50 کروڑ کے فنڈ جاری کروا چکی یقیناً یہ اللہ کے فضل اور ورکنگ کمیٹی کی محنت سے ممکن ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ روڈ کے حوالہ سے بہت کم رقم ہے لیکن اس سے اب کام شروع کیا جا سکتا ہے جو اگلے کئی مہینوں میں جاری رہ سکتا ہے، اس معاملے میں جن جن دوستوں اور مہربانوں نے اس مرحلے تک پہنچنے میں ورکنگ کمیٹی کا ساتھ دیا ہم سب کے شکر گزار ہیں۔ چاہے وہ سماجی رہنما ہوں، وہ تاجران ہوں، وہ سیاسی رہنما ہوں جس جس نے جس مرحلے پر ورکنگ کمیٹی کا اس جدوجہد میں ساتھ دیا ہم سب کے شکر گزار ہیں۔

علامہ بشیر احمد کرم نے مزید کہا کہ اب اگلا مرحلہ مزید فنڈ کا اجرا اور اس فنڈ سے کام کا آغاز کروانا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ پھر سے یہ فنڈ پڑا رہے یا پھر اور علاقوں کے کام آئے۔ اس لیے ورکنگ کمیٹی یہ مطالبہ کرتی ہے کہ فی الفور مشینری لا کر کام کا آغاز کیا جائے اس کے لیے پانچ جنوری 2024 تک کا ٹائم دیا جا رہا ہے، اگر کام جاری نہیں ہوتا تو پوری تحصیل کا ایک بار پھر پہیہ جام اور پہلے سے سخت ترین ہوگا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button