جہلم شہر اور گردونواح میں قصابوں نے سرکاری نرخنامے کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے خودساختہ مہنگائی کا طوفان برپا کر رکھا ہے، جس سے عوام کی جیبوں پر ڈاکے ڈالے جا رہے ہیں۔ انتظامیہ کی غفلت کے باعث گراں فروشی عروج پر پہنچ چکی ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ محض چند ہزار روپے جرمانہ ناجائز منافع خوری کا پائیدار حل نہیں ہے۔
قصاب سرکاری نرخوں کو ہوا میں اڑا کر گوشت من مانی قیمتوں پر فروخت کر رہے ہیں۔ سرکاری نرخنامے کے مطابق گائے کے گوشت کی قیمت 800 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے، مگر قصاب 1,000 سے 1,200 روپے فی کلو فروخت کر رہے ہیں۔ اسی طرح، بکرے کے گوشت کا سرکاری نرخ 1,600 روپے فی کلو مقرر ہے، لیکن مارکیٹ میں 2,000 سے 2,200 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس بے بس نظر آ رہے ہیں اور انتظامیہ کی خاموشی نے گراں فروشوں کو مزید بے لگام کر دیا ہے۔ عوامی و سماجی حلقوں نے اس سنگین صورتحال کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ محض 1,000 سے 2,000 روپے جرمانہ لگا کر شکایت کنندگان کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے، جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔
عوامی حلقوں نے انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو ناجائز منافع خوروں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کروانے کا پابند بنایا جائے تاکہ مصنوعی مہنگائی اور گراں فروشی جیسے مسائل کا مستقل حل نکالا جا سکے۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ جہلم میں سرکاری نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔


