جہلم شہرسمیت مضافاتی علاقوں میں بجلی کی طویل بندش سے معاملات زندگی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
گدو پاور پلانٹ میں فنی خرابی تھر مل اور کوئلے والے پاور پلانٹس کے بند ہونے سے بجلی کے شارٹ فال کے نتیجے میں جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں وقفے وقفے سے اندرون شہر 6 سے 8 گھنٹے جبکہ مضافاتی علاقوں میں 10/12 گھنٹے بجلی کا بند رہنا معمول بن چکا ہے۔
سخت سردی کے موسم میں سوئی گیس پہلے ہی نایاب ہو چکی ہے جبکہ بجلی کی بندش سے گھروں دفاتر و دیگر مختلف جگہوں پرہزاروں افراد جن میں بچے بوڑھے جوان اور عورتیں بھی شامل ہیں سخت مشکلات سے دوچار ہو کر رہ گئے ہیں۔
دوسری جانب ورکشاپس، کارخانوں ، دکانوں و دیگر صنعتی اداروں کے مالکان روزانہ کروڑوں روپے کا مالی نقصان کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔
شہر کی سماجی، رفاعی ، فلاحی ، شہری اور کاروباری تنظیموں کے عائدین نے نگران وزیر اعظم ، چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف آف آرمی سٹاف سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کی اعلانیہ و غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ ختم کی جائے تاکہ شہری بنیادی سہولیات سے مستفید ہوسکیں۔


