جہلم: مرکزی علماء کونسل ضلع جہلم کے زیرِ اہتمام ختم نبوت سیمینار مسجد توحید موہڑہ کریم بخش جہلم میں منعقد ہوا، جس کی صدارت ضلعی صدر مرکزی علماء کونسل جہلم حکیم قاری شبیر احمد عثمانی نے کی۔ سیمینار میں ضلع اور تحصیل سطح کے علماء کرام، عہدیداران اور صدور نے شرکت کی۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے علماء کرام نے کہا کہ اسوہ رسول اکرم ﷺ مسلم امہ کی حقیقی کامیابی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے، اس لیے آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ اور اسوۂ حسنہ کو اپنی زندگیوں میں اپنانا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔
علماء کرام نے نوجوان نسل کی دینی و اخلاقی تربیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو محض جشن نبوی تک محدود رہنے کے بجائے مشن نبوی کو سمجھنے اور سیرت مطہرہ کو اپنی عملی زندگی کا نمونہ بنانے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔
مقررین نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کی اساس ہے۔ ان کے مطابق 7 ستمبر 1974ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی کی جانب سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا متفقہ فیصلہ ملکی تاریخ کا ایک اہم اور تاریخ ساز باب ہے۔ علماء کرام نے کہا کہ تحفظ ختم نبوت کے قانون کا تحفظ ہر محب وطن پاکستانی کے لیے اہم ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے مسلمان بیدار ہیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حکیم قاری شبیر احمد عثمانی نے 6 ستمبر یومِ پاکستان کے حوالے سے کہا کہ یہ ملکی دفاع کی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔ 6 ستمبر 1965ء شہداء کی قربانیوں اور قومی دفاع کے عزم کی یاد دلاتا ہے، جن کی قربانیوں نے ملک کے دفاع کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
سیمینار سے مرکزی علماء کونسل ضلع جہلم کے رہنماؤں مولانا ذیشان اسحاق، مولانا قاری محمد اشرف اور مولانا حکیم محمد زبیر الحسن نے بھی خطاب کیا، جبکہ مختلف تحصیلوں کے صدور اور عہدیداران نے شرکت کی۔
اس موقع پر مرکزی علماء کونسل ضلع جہلم نے شیخ الحدیث حضرت مولانا احسان الحقؒ اور مولانا عبدالحنان صدیقیؒ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اہلِ خانہ اور متعلقین سے تعزیت کی۔ شرکاء نے مرحوم علماء کرام کی دینی و ملی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
اجلاس میں مرکزی علماء کونسل ضلع جہلم کے عہدیداران اور مختلف تحصیلوں کے صدور و ذمہ داران، جن میں حکیم قاری شبیر احمد عثمانی، مولانا زبیر الحسن، مولانا محمد مدثر، قاری عاصم عرفان، مولانا محمد عمران، قاری محمد ابراہیم منیر، حافظ مرتضیٰ تنویر، ملک محمد مبارک، ملک محمد مدثر، مولانا ذیشان اسحاق، قاری محمد اسلم فاروقی، قاری محمد رفیق، مولانا محمد عثمان، ملک فرحان اور شاکر علی بھٹی شامل تھے، نے شرکت کی۔


