ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی کے زیراہتمام ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت صدر بار احسن حمید للہ نے کی۔
اجلاس میں راولپنڈی ڈویژن کی تمام بار ایسوسی ایشنز کے صدور اور جنرل سیکرٹریز نے شرکت کی۔ اس اجلاس کا مقصد وکلاء برادری کو درپیش مسائل، آئندہ کے لائحہ عمل اور مختلف بارز کے درمیان روابط کو بہتر بنانا تھا۔
اجلاس میں کئی اہم فیصلے کیے گئے جن میں سرفہرست آئندہ بار انتخابات کو جدید تقاضوں کے مطابق مکمل طور پر ڈیجیٹل طریقے سے منعقد کرنے کا فیصلہ تھا، جس میں تمام متعلقہ بارز کا فعال کردار ہوگا۔ اس اقدام کو شرکاء نے ایک انقلابی قدم قرار دیا۔
مزید برآں وکلاء ویلفیئر فنڈ کے لیے وکالت نامہ پر 200 روپے کی فیس مقرر کرنے کی منظوری دی گئی تاکہ مستحق وکلاء کی مالی معاونت یقینی بنائی جا سکے۔ اجلاس میں گوجرخان میں نئے کورٹ کمپلیکس کی جلد از جلد تعمیر کے لیے اقدامات اٹھانے اور متعلقہ اداروں سے روابط بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
جعلی ڈگری رکھنے والے وکلاء کے خلاف کارروائی کے لیے بھی اجلاس میں اہم پیش رفت ہوئی۔ سابق صدر سوہاوہ بار چوہدری زبیر کو اس سلسلے میں فوکل پرسن مقرر کیا گیا، جبکہ تمام بارز کے سیکرٹریز کو اس کمیٹی کا رکن بنایا گیا ہے تاکہ معاملے پر موثر نگرانی اور عملی اقدامات کیے جا سکیں۔
اجلاس میں وکلاء ویلفیئر فنڈ کے قیام کی بھی منظوری دی گئی، جس سے بیمار، معذور یا وفات پا جانے والے وکلاء کی مالی مدد کی جائے گی، بشمول کفن دفن کے اخراجات۔ اس تجویز کو تمام شرکاء نے بھرپور سراہا۔ ہائیکورٹ بار کے آئین میں ضروری ترامیم کے لیے جلد ایک جنرل باڈی اجلاس بلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا تاکہ تنظیمی ڈھانچے کو مزید بہتر اور مؤثر بنایا جا سکے۔
اجلاس کی میزبانی ہائیکورٹ بار کے جنرل سیکرٹری ملک خلیل اعوان نے خوش اسلوبی سے کی، جن کی انتظامی صلاحیتوں کو شرکاء نے خوب سراہا۔ اجلاس کے اختتام پر ملکی سلامتی، ترقی اور افواج پاکستان کی کامیابیوں کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔
تمام شرکاء نے اس اہم اجلاس کو وکلاء کی یکجہتی اور مسائل کے حل کے لیے نہایت اہم قرار دیتے ہوئے صدر اور جنرل سیکرٹری کو خراج تحسین پیش کیا اور مستقبل میں بھی اس نوعیت کے اجلاس منعقد کرنے کی تجویز دی۔


