آسٹریلیا کا غیر ملکی طلبہ اور تارکین وطن کے لیے امیگریشن قوانین مزید سخت کرنے کا اعلان

آسٹریلیا کی حکومت نے نئی 10 سالہ امیگریشن پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے امیگریشن قوانین مزید سخت کر دیے ہیں۔ سخت قوانین کا اطلاق غیر ملکی طلبا اور طالبات پر بھی لاگو ہوگا۔

برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کے مطابق آسٹریلوی حکومت کے اس منصوبے میں 2 سال کے اندر تارکین وطن کی تعداد میں تقریباً 50 فیصد کمی لانا شامل ہے تاکہ جون 2025 تک تارکین وطن کی سالانہ تعداد کم کر کے اڑھائی لاکھ کر دی جائے۔

آسٹریلوی حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس منصوبہ کے تحت غیر ملکی طالب علموں اور کم ہنر مند افراد کے لیے ویزا قوانین کو بھی سخت کیا جائے گا، کیونکہ ملک میں کو تارکین وطن کی سطح میں ریکارڈ اضافے کی وجہ سے رہائش اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل کا سامنا ہے.

ویزا پالیسیوں میں ان تبدیلیوں کے باوجود آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ لیبر مارکیٹ میں خلا کو پر کرنے کے لیے ہنر مند افراد کو ویزے جاری کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

پیر کو میڈیا بریفنگ کے دوران آسٹریلوی وزیر داخلہ کلیر او نیل نے کہا کہ پچھلی حکومت نے تارکین وطن کے نظام کو تہس نہس کر کے چھوڑ دیا تھا۔ تاہم اس سال کے اوائل میں ایک جائزے میں پایا گیا تھا کہ نظام ’بری طرح خراب ہو چکا ہے‘ اور اسے ’بڑی اصلاحات‘ کی ضرورت ہے کیونکہ یہ غیر ضروری طور پر پیچیدہ، سست اور غیر مؤثرہے۔

وزیر داخلہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی حکومت غیر ملکی تارکین وطن کی تعداد کو دوبارہ کنٹرول میں لائے گی اور جون 2023 تک ریکارڈ 510،000 افراد کے آسٹریلیا آنے کے بعد سالانہ نقل مکانی میں تقریباً 50 فیصد کمی کرے گی۔

آسٹریلیا نے غیر ملکی طالب علموں کے لیے انگریزی زبان کی شرائط مزید سخت کر دی ہیں اور دوسرے ویزے کے لیے درخواست دینے والوں کے لیے جانچ پڑتال میں بھی تبدیلیاں لاتے ہوئے مزید سختیاں کر دی ہیں۔

آسٹریلیا میں اس وقت پاکستانیوں سمیت650،000 غیر ملکی طالب علم ہیں، جن میں سے بہت سے دوسرے مدت کے لیے ویزا لینے کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button