کویت میں بغیر لائسنس ڈرائیونگ پر تارکین کو ملک بدری کا سامنا

کویت سٹی: خلیجی ملک کویت میں غیر ملکیوں کو ایکسپائر شدہ یا بغیر لائسنس کے ساتھ ڈرائیونگ کرنے پر ملک بدر کردیا جائے گا، ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر سڑک پر آنے پر گزشتہ سال 145 افراد کو ڈی پورٹ کردیا گیا۔

گلف نیوز کے مطابق کویت کے ایک اخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ خلیجی ملک میں بغیر قانونی لائسنس کے ڈرائیونگ کرنے والے تارکین وطن کو ملک بدری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے تمام تارکین وطن کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ان کے ڈرائیونگ لائسنس قانونی اور سرکاری ایپس "مائی آئڈنٹیٹی” یا "ساہل” کے ذریعے تصدیق شدہ ہیں۔

سرکاری سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ "اگر کوئی تارکین وطن اس بات سے بے خبر ہیں کہ ان کے ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کردیئے گئے ہیں تو وہ بھی جرمانے سے مستثنیٰ نہیں ہیں، جس میں ملک بدری بھی شامل ہوسکتی ہے”، اور گزشتہ سال کویت سے تقریباً 145 غیر ملکیوں کو ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر سڑک پر آنے کی وجہ سے ملک بدر کیا گیا۔

معلوم ہوا ہے کہ دسمبر میں کویت نے تارکین وطن کے لیے الیکٹرانک ڈرائیونگ لائسنس کو تبدیل کیا، تارکین وطن وزارت داخلہ کی ویب سائٹ یا "ساہل” ایپ کے ذریعے الیکٹرانک طور پر اپنے لائسنس کی تجدید کر سکتے ہیں جب کہ 2021ء کے اواخر میں کویت نے تارکین وطن کے لیے ڈرائیونگ لائسنس جاری کرنے کے لیے ایک نئے نظام کی نقاب کشائی کی تھی، جس میں ہولڈرز کے ڈیٹا کی جانچ کرنا اور نااہل لوگوں کو منسوخ کرنا شامل ہے، اس نظرثانی کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ڈرائیونگ لائسنس کے غیر ملکی افراد اہلیت اور اجرت کے لحاظ سے ضروریات کو پورا کریں۔

ایک کویتی اہلکار نے گزشتہ سال ستمبر میں بتایا کہ "گزشتہ سال چھ ماہ میں 18 ہزار سے زائد تارکین وطن کو کویت سے ملک کے قوانین کی مختلف خلاف ورزیوں بشمول ٹریفک کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے ملک بدر کیا گیا۔

ٹریفک آگاہی ڈیپارٹمنٹ کے چیف بریگیڈیئر نواف الحیان نے کویتی اخبار الرائی کو بتایا کہ 2023ء میں مارچ سے اگست تک مجموعی طور پر 18 ہزار 486 غیر ملکیوں کو ملک بدر کیا گیا، ان خلاف ورزیوں میں تیز رفتاری، سرخ ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی، مسافروں کی غیر قانونی نقل و حمل، مخالف سمت یا بغیر لائسنس کے گاڑی چلانا شامل ہیں۔

گزشتہ برس کویتی حکام نے جنوری سے اگست کے عرصے کے دوران 34 ہزار 751 غیر ملکیوں سے ڈرائیونگ لائسنس واپس لیے کیوں کہ وہ انہیں رکھنے کے لیے نااہل تھے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button