Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • صفحۂ اول
  • جہلم
  • دینہ
    • منگلا
  • سوہاوہ
    • ڈومیلی
    • پڑی درویزہ
  • پنڈدادنخان
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • مزید
    • امیگریشن اور سفر
    • لائف اسٹائل
      • دلچسپ و عجیب
      • صحت
    • پاکستان
    • دنیا
    • ٹیکنالوجی
    • کاروبار
    • کھیل
    • تعلیم
    • سیاست
پڑھنا: سمپورن سنگھ کالرا : سرحد کے دونوں جانب مہکتا گلزار
شیئر کریں
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر
سرچ
  • صفحۂ اول
  • ضلع جہلمضلع جہلم
    • جہلم
    • دینہ
    • سوہاوہ
    • پنڈدادنخان
    • منگلا
    • ڈومیلی
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
    • پڑی درویزہ
  • بک مارکس
    • My Bookmarks
    • Customize Interests
  •  
    • پاکستان
    • اوورسیز پاکستانی
    • امیگریشن اور سفر
    • سیاست
    • کاروبار
    • کھیل
    • دنیا
    • صحت
    • تعلیم
  • کالم و مضامین
  • ٹیکنالوجی
    • موبائل فون
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں

سمپورن سنگھ کالرا : سرحد کے دونوں جانب مہکتا گلزار

شہزاد نیر
شہزاد نیر
6 اگست, 2024
شیئر کریں
شیئر کریں

دُنیا سے عدم اطمینان کا اظہار ہر بڑے فن کی بنیاد بنتا ہے۔ ہر نئی ایجاد، نئی کہانی یا نئی نظم، گویا دُنیا کو بہتر بنانے کی کوشش ہے یا پھر کسی خلا کو پُر کرنے کی کاوش۔

شاعر اور ادیب نغموں، نظموں اور کہانیوں میں دُنیا کی ایک اپنی تصویر بناتے ہیں۔ اِن کی تحریر میں ایک نئی دُنیا بستی ہے جو پڑھنے والوں کی آنکھوں میں بھی بَس جاتی ہے۔ یہ دُنیا در دُنیا بساتے ہیں۔

پھر ایک مُدت بیت جاتی ہے تو ان کو خیال آتا ہے کہ دُنیا میں تو کچھ بھی بدلاؤ نہیں آیا۔ وہ تو ویسی ہی ہے جیسی کہ ہوا کرتی تھی! یہ سچے لوگ ہیں سو خود ہی مان لیتے ہیں لیکن پھر بھی لکھتے رہتے ہیں۔ شاید کبھی کہیں کچھ بدل جائے اور تبدیلی کا خواب دیکھنے والوں میں ان کا شمار ہو جائے۔ شاید کہیں کچھ بدلتا بھی ہو۔ باہر نہیں تو اندر۔ ذہنوں میں، دلوں میں! کچھ تو ضرور بدلتا ہو گا۔

یہ وہی لوگ ہیں جو خوش نصیب ہیں، شاعر ادیب ہیں۔ اپنے خوش طینت، نیک نصیب گلزار بھی انہی لوگوں میں سے ہیں۔ گلزار کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے، سو انہوں نے خوب کہا۔ فلم میں کہا، نظم و غزل میں کہا، کہانی میں کہا، جوانی میں کہا اور اب پیرانہ سالی میں بھی کہہ رہے ہیں۔

گلزار کا کہا ہوا کروڑوں دلوں تک پہنچا۔ سرحدوں کے پار گیا اور اس آواز کی طاقت کے آگے لکیروں کا جال ہار گیا۔ برقی مواصلات نے فضا میں ایسا جال بُن رکھا ہے جو زمینی لکیروں کی شناخت نہیں کر سکتا۔ ویسے بھی فن کی کوئی لکیر تو ہوتی نہیں۔ گلزار کو فن آتا تھا سو دُنیا لکیریں پھاندتی آتی چلی گئی اور گلزار کے رنگ و بو میں بستی چلی گئی۔

کسی نے پوچھا:

یہ بمبئی کی فلمی صنعت میں گلزار ہیں کیا یہ ہندو ہیں؟ یا ہم میں سے ہیں
ہم نے کہا گلزار کو بس گلزار ہی سمجھیں تو اچھا ہے پھولوں کا ایمان تو آنکھوں کو جچنا ہے
وحید احمد (پیش لفظ، شفافیاں )

گلزار نے پر دۂ سیمیں پر گُل بوٹے کاڑھے تو دُنیا سَج سی گئی۔ فلمی مکالموں سے روزمرہ ترتیب پایا اور پھر ان کی کومل، سبک نظمیں۔

گلزار نے نئی نظم کو وہ سوچتا ہوا رنگ دیا ہے جو زمین سے اٹھتا ہے۔ خاکستری رنگ۔ اسی خاک رنگ سے سات رنگ دھنک سجتی ہے۔ زمین کے لوگوں کی باتیں، فلیٹوں میں رہنے والے لوگ، جب سیلاب آ جائے، بتی چلی جائے، خط کا انتظار ہو، چادر کھینچ کر سوئی پڑی حسینہ، خون میں لت پت اخبار، دو وقت روٹی کی چکی میں پستے ہوئے لوگ۔ یہ سب کچھ گلزار کی نظم میں ہے۔

ان کی زبان نکھری نتھری ستھری، گنگا جمنی اُردو زبان جو ایک طرف عربی اور فارسی تو دوسری جانب ہندی اور سنسکرت سے سیراب ہوتی ہے۔ گلزار کی نظم جب سبک ملائم رو میں بہتی ہے تو معنی کے کنول سطحِ آب کو سجاتے رہتے ہیں۔ گلزار کی نظم جدید نظم نگاری سے نہ صرف ہم آہنگ ہے بلکہ آگے بڑھ کر سوچتی بھی ہے۔ یہ نظم نرمی سے سوال اٹھاتی ہے۔ غزل کی روایتی تلازمہ کاری اور طرزِ اَدا سے بچ بچا کر اپنی راہ چلتی ہوئی نظم جس پر گلزار کے اپنے دستخط ثبت ہیں۔ نظم جو بیک وقت سہل بھی ہے اور گہری بھی۔

سارا دِن میں خُون میں لَت پَت رہتا ہوں
سارے دن میں سُوکھ سُوکھ کے کالا پڑ جاتا ہے
خون کی پپڑی سی جم جاتی ہے
کھرچ کھرچ کے ناخنوں سے چمڑی چھلنے لگتی ہے
ناک میں خُون کی کچی بُو
اور کپڑوں پر کچھ کالے کالے چُکتے سے رہ جاتے ہیں
روز صبح اخبار مرے گھر خون میں لت پت آتا ہے
(آشوب)

گلزار نے غزل کہی تو پُرتاثیر کہی، تازہ کہی اور خوش آہنگ کہی۔ گاتی ہوئی رقص کرتی ہوئی غزل۔

تنکا تنکا کانٹے توڑے ساری رات کٹائی کی
کیوں اتنی لمبی ہوتی ہے چاندنی رات جدائی کی
آنکھوں اور کانوں میں کچھ سناٹے سے بھر جاتے ہیں
کیا تم نے اُڑتی دیکھی ہے ریت کبھی تنہائی کی

گرم لاشیں گری فصیلوں سے
آسماں بھر گیا ہے چیلوں سے

ایسا خاموش تو منظر نہ فنا کا ہوتا
میری تصویر جو گرتی تو چھناکا ہوتا
کیوں مری شکل پہن لیتا ہے چھپنے کے لئے
ایک چہرہ کوئی اپنا تو خدا کا ہوتا

افسانے کی کہانی گلزار خود بیان کرتے ہیں۔

”ہم نثر بھی پڑھتے تھے۔ کبھی کبھی کوئی کہانی ڈَس جاتی تو دنوں ہائے ہائے کرتے۔ شعر پہ شعر تو چڑھ جاتے لیکن کہانی مہینوں نہ اُترتی۔ تب جی چاہتا ہم بھی ایک بار کہانی لکھیں گے“

(گلزار، پیش لفظ، دستخط)

اب صورت یہ ہے کہ گلزار کی کہانی پڑھ کر ہم لوگ مہینوں ہائے ہائے کرتے ہیں پھر بھی پھانس دل سے نکلتی نہیں۔ برسوں بیتے ”فنون“ میں ”گاگی اور سپرمین“ پڑھی تھی۔ آخری فقرہ آج بھی خنجر کی طرح دل میں پیوست ہے :۔

”خدا بھی سپرمین کی طرح ہے۔ کتابوں میں بہت کچھ کر لیتا ہے“ اس کہانی کے آخر میں سرطان میں مبتلا ننھی گاگی مر جاتی ہے!

پاک بھارت سرحدی جھڑپوں پر لکھا گیا ان کا افسانہ ”اوور“ پڑھا تو یہ فقرہ کانوں میں ہمیشہ کے لیے رُک گیا ”بم سے تو بیڑی بھی نہیں سلگا سکتے“

اور وہ شاہکار افسانہ جو پورے کا پورا یوں وجود میں گھل گیا ہے جیسے پانی میں نیل، کہ کپڑا بھگو کر نکالو تو نیلا، زہر بھرا۔ اس افسانے کا عنوان ہے ”مائیکل اینجلو“ یہ کہانی کبھی بھی خود کو کہنا بند نہ کرے گی۔

”میں وہی یسوع ہوں جیسے تم یہودہ نقش کر رہے ہو“

کہانیاں ہیں اور کہانی کار ہے۔ نظمیں ہیں اور نظم نگار ہے۔ غزلیں ہیں اور غزل کا دلدار ہے۔ فلمی گیت ہیں اور رَس بھرا فنکار ہے۔ یہ سارے پُھول ایک ساتھ کِھل جائیں تو ”گلزار“ ہے۔ ہم سب کا گلزار۔ سب کا سانجھا گلزار۔ برصغیر کے باغ سے اُٹھی یہ خوشبو دُنیا کے کونے کونے تک پہنچی ہے۔

ضلع جہلم کے شہر دینہ میں پیدا ہو کر ممبئی میں زندگی گزارنے والا سمپورن سنگھ کالرا کہیں بھی رہے، دراصل وہ دلوں میں رہتا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ گلزار تو ”وہاں“ کے ہیں۔ میں دِل پہ ہاتھ رکھ کے کہتا ہوں گلزار یہاں کے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)
یہ مضمون شیئر کریں
Facebook Flipboard Pinterest Whatsapp Whatsapp Reddit Telegram لنک کاپی کریں
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمیں فالو کریں

FacebookLike
XFollow
PinterestPin
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
TiktokFollow
WhatsAppFollow
LinkedInFollow
SnapchatSubscribe
ThreadsFollow
BlueskyFollow
Weather
20°C
Jhelum
clear sky
20° _ 20°
52%
1 m/s
جمعہ
31 °C
ہفتہ
29 °C
اتوار
33 °C
پیر
34 °C
منگل
31 °C

تازہ ترین

جہلم میں غفلت و لاپرواہی سے ہائی ایس چلا کر موٹر سائیکل سوار فیملی کو زخمی کرنے والا ڈرائیور گرفتار
22 اکتوبر, 2026
جہلم میں ایل پی جی کی قیمتوں نے تمام ریکارڈ توڑ دیے، گھریلو سلنڈر 6200 روپے سے تجاوز کرگیا
22 اکتوبر, 2026
جہلم ایلیٹ فورس کے شہید جوانوں کی نماز جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا، آئی جی پنجاب کا اظہار افسوس
22 اکتوبر, 2026
جہلم چیمبر آف کامرس کے سابق صدر حاجی زاہد حسین بٹ کا حلف برداری سمیت تمام تقریبات کے بائیکاٹ کا اعلان
22 اکتوبر, 2026
پنڈدادنخان پولیس کی کارروائی، امانت میں خیانت کے مقدمے میں ملوث ملزم گرفتار
22 اکتوبر, 2026

شاید آپ یہ بھی پڑھنا پسند کریں

ابّا

13 نومبر, 2023

انسانیت کا مسیحا؛ ڈاکٹر جواد بخت کیانی

25 فروری, 2026

میاں عبدالجبار؛ فرض شناس قیادت کی ایک مثال

3 مارچ, 2026

بک کارنر جہلم : معیار، اعتماد اور کامیابی کے پچاس سال

18 جولائی, 2024

اشتہارات اور خبروں کیلئے جہلم اپڈیٹس سے رابطہ کریں۔

  • [email protected]
  • [email protected]
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں Follow us on Google News
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • Terms & Condition
  • About Us
  • Home

About US

The Largest News Network of Jhelum, Pakistan.
Quick Link
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر

Subscribe US

Subscribe to our newsletter to get our newest articles instantly!

[mc4wp_form]
Jhelum UpdatesJhelum Updates
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں