میں آپ کو بتاؤں کہ میری عمر 76 برس کی ہو چکی ہے ۔ بہت سی باتوں کا ابھی بھی نہیں پتہ اور کئی باتوں کا اب آ کر پتہ چلا ہے ۔ انسان ساری زندگی کچھ نہ کچھ سیکھتا رہتا ہے بشرطیکہ اس زعم میں مبتلا نہ ہو جائے کہ وہ سب جانتا ہے۔ مثال کے طور پر ابھی چند دن پہلے تک مجھے صلہ رحمی کے بارے میں ٹھیک طرح سے نہیں پتہ تھا ۔
واجد بھائی ( ڈاکٹر واجد پیرزادہ ) اکثر صلہ رحمی کا ذکر کرتے تو مجھے کچھ اچھا نہیں لگتا تھا۔ مجھے ایسے لگتا تھا جیسے کسی پر ظلم ہو رہا ہو اور اس پر رحم کرنے کی تلقین یا التجا کی جا رہی ہو۔ جیسے کسی غریب مسکین کی مدد کرنا کہ اس سے اللہ راضی ہوگا جبکہ ہماری تنظیم کا مقصد سادات بنو ہاشم کی خیر خواہی، اتحاد اور اپنے مشترکہ ایشوز کے لئے یک جان ہو کر کوششیں کرنا ہے ۔ اس میں رحم والی کون سی بات ہے ۔ ؟ لیکن پھر میں نے غور کیا تو پتہ یہ چلا کہ صلہ رحمی کا اصل مطلب وہ نہیں تھا جو میں اب تک سمجھتا چلا آیا تھا ۔
صلہ رحمی در اصل عربی زبان کے دو لفظوں کا مرکب ہے ۔ صلہ اور رحمی ۔ یہاں لفظ رحمی رحم کرنے کے معنوں میں نہیں ہے جو غلطی سے میں بھی سمجھے بیٹھا تھا ۔ اس کا مصدر وہ رحم ہے جس میں بچہ جنم لینے سے پہلے پرورش پاتا ہے۔ یعنی رحم مادر یا ماں کی کوکھ اور صلہ کا مطلب معاوضہ دینا، انعام دینا، تحفہ دینا، دعوت دینا، عزت و احترام دینا، اچھے تعلقات رکھنا، خدمت کرنا اور ایسا سلوک کرنا جو ماں جائیوں کے ساتھ کیا جانا چاہئیے کہ آخر ہم ایک ہی والدین کی اولاد ہیں۔
ہماری آپس کی رشتہ داریاں تھوڑی دور کی سہی لیکن ہم ہیں تو ایک ہی خاندان اور اپنے خاندان کی حفاظت، خاندان کی عزت و آبرو کی رکھوالی، خاندان کی ضروریات کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے۔ یہ کوئی رحم کرنے والی بات نہیں ہے ۔ یوں تو حضرت آدمؑ اور اماں حواؑ کی اولاد ہونے کے ناطے ساری انسانیت ہی ہمارا خاندان ہے ۔ لیکن ہمیں مراتب اور قرابت کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہمارا اولین فرض اپنی امیجیٹ فیملی ماں باپ، بہن بھائی اور اولاد کی ذمہ داریاں ہیں۔ اس کے بعد قریبی رشتہ دار اور پھر دور کے رشتہ داروں کی ذمہ داریوں سے ہوتے ہوئے ہم پوری انسانیت تک پہنچتے ہیں۔
اللہ ہمیں توفیق عطاء فرمائے کہ ہم پوری نوع انسانی کی خدمت کر سکیں لیکن اس کا منطقی اور صحیح راستہ وہی ہے جو میں نے اوپر بیان کیا۔ یعنی مراتب اور قرابت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے عمومی فلاح و بہبود کی منزل تک پہنچنے کی کوشش کرنا تو اس لیے میرے بھائیو اور نوجوانوں، سادات بنو ہاشم آپ کا اپنا خاندان ہے ۔ اس کی حفاظت، اس کی عزت و آبرو کی رکھوالی اور اس کی جملہ ضروریات کا حَتّی المقدور خیال کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔ کوئی احسان نہیں اور یہی صلہ رحمی کا مفہوم ہے ۔
تحریر: لیاقت ہاشمی


