ابوظہبی: متحدہ عرب امارات نے ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی رہائشی حیثیت درستگی کے لیے متعارف کرائی جانے والی ویزہ ایمنسٹی سے متعلق مزید وضاحت جاری کردی۔
اماراتی میڈیا کے مطابق فیڈرل اتھارٹی فار آئیڈنٹٹی، سٹیزن شپ، کسٹمز اینڈ پورٹ سیکیورٹی (ICP) نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ان لوگوں کے خلاف کوئی پابندی نہیں ہوگی اور نہ ہی کوئی جرمانہ عائد کیا جائے گا جو دو ماہ کی عام معافی کی مدت کا فائدہ اٹھائیں گے جو یکم ستمبر بروز اتوار سے شروع ہوگی۔
آئی سی پی نے یہ بھی واضح کیا کہ ایمنسٹی پروگرام تمام قسم کے ویزوں کا احاطہ کرتا ہے جن میں سیاحتی اور معیاد ختم ہونے والے رہائشی ویزے بھی شامل ہیں، وہ لوگ جو بغیر کسی دستاویزات کے حامل والدین کے ہاں پیدا ہوئے تھے وہ بھی سکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور اپنی حیثیت کو درست کرسکتے ہیں، یہ ان لوگوں کے لیے بہترین موقع ہے جو متحدہ عرب امارات میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں یا تو اپنی رہائش کی حیثیت کو باقاعدہ بنائیں یا جرمانے کے بغیر ملک چھوڑ دیں، ملک سے جانے والوں سے زائد قیام پر جرمانہ یا ایگزٹ فیس وصول نہیں کی جائے گی۔
بتایا گیا ہے کہ 2007ء کے بعد متحدہ عرب امارات کی حکومت کا یہ چوتھا عام معافی پروگرام ہوگا، اس حوالے سے آخری سکیم چھ سال پہلے آئی تھی جو ابتدائی طور پر یکم اگست 2018ء کو شروع ہوئی اور 31 اکتوبر 2018ء تک 90 دن اس کا اطلاق رہا، تاہم وفاقی حکومت نے ایمنسٹی سکیم کو مزید دو ماہ کے لیے اسی سال 31 دسمبر تک بڑھا دیا تھا تاکہ مزید ریزیڈنسی کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اپنی حیثیت کو درست کرنے کی اجازت دی جا سکے یا وہ بغیر کسی جرمانے کے ملک چھوڑ دیں۔


