Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • صفحۂ اول
  • جہلم
  • دینہ
    • منگلا
  • سوہاوہ
    • ڈومیلی
    • پڑی درویزہ
  • پنڈدادنخان
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • مزید
    • امیگریشن اور سفر
    • لائف اسٹائل
      • دلچسپ و عجیب
      • صحت
    • پاکستان
    • دنیا
    • ٹیکنالوجی
    • کاروبار
    • کھیل
    • تعلیم
    • سیاست
پڑھنا: منافعے کے لالچ نے سولر پینلز ڈیلرز کو پھنسا دیا، نقصان میں فروخت پر مجبور
شیئر کریں
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر
سرچ
  • صفحۂ اول
  • ضلع جہلمضلع جہلم
    • جہلم
    • دینہ
    • سوہاوہ
    • پنڈدادنخان
    • منگلا
    • ڈومیلی
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
    • پڑی درویزہ
  • بک مارکس
    • My Bookmarks
    • Customize Interests
  •  
    • پاکستان
    • اوورسیز پاکستانی
    • امیگریشن اور سفر
    • سیاست
    • کاروبار
    • کھیل
    • دنیا
    • صحت
    • تعلیم
  • کالم و مضامین
  • ٹیکنالوجی
    • موبائل فون
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں

منافعے کے لالچ نے سولر پینلز ڈیلرز کو پھنسا دیا، نقصان میں فروخت پر مجبور

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
12 نومبر, 2024
شیئر کریں
شیئر کریں

پاکستان میں اس وقت سولر پینلز کی بھرمار ہے۔ بلومبرگ این ای ایف کی رپورٹ کے مطابق سال 2024 کی پہلی ششماہی میں ملک میں چین سے 13 گیگا واٹ کے سولر پینلز درآمد کیے گئے۔

ایک پروجیکٹ ڈویلپر کے مطابق سولر پینلز کی اتنی بڑی تعداد امپورٹ کرنے کے نتیجے میں سولر پینلز ”سڑکوں پر پڑے نظر آئے“ 2023 میں پاکستان میں سولر پینلز کی تقریباً 3.5 گیگا واٹ کی مانگ تھی اور 2024 کے اوائل میں پاکستان چینی سولر برآمدات کے لیے تیسری سب سے بڑی مارکیٹ بن گئی۔

Innovo Corp کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد مجاہد نے بتایا کہ 2022 میں پاکستان کے مرکزی بینک کو ڈالر کی کمی کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے تجارتی خسارہ ہوا اور درآمدات پر غیر رسمی پابندی لگ گئی۔ صرف ادویات اور خوراک جیسی ضروری اشیا ہی درآمد کی جا سکتی تھیں، جس کا مطلب یہ تھا کہ تقسیم کار تقریباً نو ماہ تک سولر پینلز لانے میں ناکام رہے۔

ان پابندیوں کے باوجود، کچھ سولر پینلز درآمد کیے گئے تھے۔ عام طور پر سامان کی درآمد کے لیے امپورٹر کے بینک سے لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم 2022 میں زرمبادلہ کے بحران کے دوران، ایل سی جاری کرنا محدود تھا۔ اس صورتحال نے مارکیٹ کے بڑے کھلاڑیوں کو فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کردیا۔

وطین انرجی سلوشنز کے حسین خان نے بتایا کہ پینلز کی درآمد پر براہ راست لاگت 0 اعشاریہ 15 ڈالر فی واٹ تھی تو وہ مقامی مارکیٹ میں 0 اعشاریہ 30 ڈالر فی واٹ کے حساب سے فروخت کیے جا رہے تھے، یہ ٹریڈنگ بزنس میں 100 فیصد منافع تھا۔ منافع کی شرح کو دیکھتے ہوئے ہر کوئی سولر پینلز کا آرڈر دینے لگا۔ وہ کمپنیاں جو چاول بھی ایکسپورٹ کررہی تھیں، اس کاروبار میں کھود پڑیں۔ مثلاً انہوں نے چاول ایکسپورٹ کیا اور اب وہ اپنا ڈالر دوسرے ممالک سے واپس لاسکتے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے سولر پینلز کی تقسیم میں نمایاں اضافہ ہوگیا۔

محمد مجاہد نے بتایا کہ سولر پینلز کی فروخت مسئلہ نہیں رہی تھی اور اس کے لیے کوئی تجربہ ضروری نہیں تھا، مطلب یہ کہ آپ گریڈ اے کی پیداواری کمپنیوں سے سولر پینلز امورٹ کریں اور انہیں مقامی مارکیٹ میں فروخت کردیں یہ کوئی مشکل بات نہیں تھی۔

2024 میں سولر پینلز کی غیرمعمولی تعداد کے باعث منافع کی شرح انتہائی کم ہوگئی اور بعض صورتوں میں سولر پینلز خسارے میں فروخت کیے جانے لگے۔

محمد مجاد نے بتایا کہ امید نہیں تھی کہ سولر پینلز کی مارکیٹ سے اتنی تیزی سے لوگ باہر نکل جائیں گے، میرا خیال تھا کہ 6 ماہ یا ایک سال لگتے کیونکہ سرمایہ داروں نے اس صنعت سے غیرمعمولی پیسہ بنایا۔

مقامی ڈویلپرز کے مطابق شمسی توانائی میں سرمایہ کاری تجارتی اور صنعتی سیکٹر سے آئی، جس میں ملٹی نیشنل اور مقامی کمپنیاں فوٹو وولٹک (پی وی) ٹیکنالوجی میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ حسین خان نے کہا، ”ہر کوئی جس کے پاس سرمایہ ہے وہ سولر کی طرف جا رہا ہے۔“

وطین انرجی سلوشنز نے گزشتہ 18 مہینوں میں 30 میگاواٹ کے سولر پینلز نصب کیے اور 2025 میں تقریباً 50 میگاواٹ کی تنصیب کا ارادہ رکھتی ہے۔

خان کے مطابق سولر پینلز سسٹم ایک ”سیدھی سادی سرمایہ کاری“ ہے کیونکہ وہ عام طور پر 18 ماہ سے دو سال کے اندر سرمایہ کاری پر منافع (آر او آئی) ملنا شروع ہوجاتا ہے۔

ان کے مطابق اگر نیٹ میٹرنگ کم منافع بخش ہو جائے تب بھی شمسی توانائی ایک اچھی سرمایہ کاری ہو گی کیونکہ پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے مطابق کرنسی کی قدر میں کمی، طلب میں کمی، زیادہ ترسیل اور تقسیم کے نقصانات، چوری، مانگ کے اتار چڑھاؤ، قانونی تنازعات اور ناقص گورننس سمیت مختلف عوامل کی وجہ سے بجلی کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ فار انرجی اکنامکس اینڈ فنانشل اینالیسس (آئی ای ای ایف اے) کی انرجی فنانس اسپیشلسٹ حنیہ اساد نے بتایا کہ آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے طویل مدتی معاہدوں سے نکلنا مشکل ہے، جو 25 سے 30 سال تک چلتے ہیں، کیونکہ یہ قانونی طور پر پابند ہیں۔ جب 1990 اور 2000 کی دہائی کے اوائل میں ان معاہدوں پر دستخط کیے گئے تو پاکستان کو توانائی کی نمایاں کمی کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے حکومت نے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے پرکشش شرائط پیش کیں۔ بدقسمتی سے، پاور سیکٹر اس وقت سے زیادہ ترقی نہیں کرسکا ہے، اور سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے اب بھی اسی طرح کی ترغیبات درکار ہیں۔

شمس پاور کے چیف ایگزیکٹو عمر ایم ملک کے مطابق ان کی کمپنی پاکستان میں کمرشل اینڈ انڈسٹریل (سی اینڈ آئی ) کلائنٹس کے ساتھ بجلی کی فراہمی کے معاہدے پر دستخط کرنے والی پہلی کمپنی ہے، شمس پاور ملک میں 40 میگاواٹ کے قریب شمسی توانائی کی پیداواری صلاحیت کی مالک ہے اور یہ توانائی صارفین کو ایک طے شدہ نرخ پر فراہم کرتی ہے۔

انہون نے مزید بتایا کہ “ہمارا کاروباری ماڈل یہ ہے کہ ہم سب کچھ کرتے ہیں۔ ہم اس منصوبے کی مالی اعانت کرتے ہیں، ہم اسے تعمیر کرتے ہیں، ہم اسے چلاتے ہیں، اور یہ معاہدہ 15 سے 20 سال پر مشتمل ہوتا ہے اور ہم اپنے کو گرڈ کی قیمت پر رعایت دے کر بجلی فراہم کرتے ہیں، بعض صورتوں میں ہمارے صارفین کو 70 فیصد تک کی رعایت بھی مل رہی ہے۔

پاکستانی حکومت اچھی طرح جانتی ہے کہ نجی شعبہ شمسی توانائی کی صلاحیت کو تیز رفتاری سے استعمال کرنے کا خواہاں ہے، لیکن اس سے صلاحیت کی ادائیگی کے مسائل بڑھنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔

قابل تجدید ذرائع اور گرڈ انٹیگریشن ماہر سید فیضان علی شاہ نے بتایا کہ غیر محدود شمسی توانائی کی پیداوار کی اجازت دینے سے پاکستان کی بجلی کی مارکیٹ میں خلل پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ کمرشل اینڈ انڈسٹریل سیکٹر سے گرڈ کی ادائیگیوں میں تیزی سے کمی آنے سے مرکزی یوٹیلیٹیز پر مزید مالی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ یہ چیلنجز حکومت کے لیے ایک اہم غور و فکر کی حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ انہیں شمسی توانائی کے فروغ کے ساتھ ساتھ مارکیٹ کی استحکام کو بھی برقرار رکھنا ہے۔

یہ مضمون شیئر کریں
Facebook Flipboard Pinterest Whatsapp Whatsapp Reddit Telegram لنک کاپی کریں
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمیں فالو کریں

FacebookLike
XFollow
PinterestPin
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
TiktokFollow
WhatsAppFollow
LinkedInFollow
SnapchatSubscribe
ThreadsFollow
BlueskyFollow
Weather
21°C
Jhelum
clear sky
21° _ 21°
69%
3 km/h
جمعرات
31 °C
جمعہ
31 °C
ہفتہ
32 °C
اتوار
34 °C
پیر
34 °C

تازہ ترین

جہلم میں سنگھوئی کے قریب دو موٹرسائیکلوں میں تصادم، 2 نوجوان جاں بحق،16 سالہ لڑکا زخمی
14 اکتوبر, 2026
سوہاوہ: ڈومیلی میں ضمانت دینے کی رنجش پر بااثر شخص نے میاں بیوی کو مبینہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا
13 اکتوبر, 2026
جہلم میں مرغی کے گوشت کی من مانے نرخوں پر فروخت، کم وزن اور صفائی کے ناقص انتظامات پر شہری پریشان
13 اکتوبر, 2026
ضلع جہلم میں صفائی ستھرائی کا نظام مزید منظم اور موثر بنانے کے لیے اقدامات پر غور
13 اکتوبر, 2026
سوہاوہ کی حدود میں پاکستان پوسٹ کے 16 برانچ پوسٹ آفس بند، سابقہ 45 ماہ کے اعزازیہ معاوضے تاحال واجب الادا
13 اکتوبر, 2026

شاید آپ یہ بھی پڑھنا پسند کریں

جہلم جیل کے قیدیوں کو عیدالاضحٰی پر اہلِ خانہ سے ملاقات کی خصوصی اجازت، مراسلہ جاری

16 جون, 2024

چینی کمپنی ’شیاؤمی‘ نے اپنی پہلی الیکٹرک کار متعارف کرادی

29 مارچ, 2024

دینہ کے علاقہ پنڈ جاٹہ کے منشیات فروش کو جرم ثابت ہونے پر 9 سال قید اور جرمانے کی سزا

5 دسمبر, 2024

جہلم میں ناقص اور غیر معیاری فاسٹ فوڈز شہریوں کے لیے وبال جان بن گئے

20 فروری, 2025

اشتہارات اور خبروں کیلئے جہلم اپڈیٹس سے رابطہ کریں۔

  • [email protected]
  • [email protected]
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں Follow us on Google News
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • Terms & Condition
  • About Us
  • Home

About US

The Largest News Network of Jhelum, Pakistan.
Quick Link
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر

Subscribe US

Subscribe to our newsletter to get our newest articles instantly!

[mc4wp_form]
Jhelum UpdatesJhelum Updates
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں