Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • صفحۂ اول
  • جہلم
  • دینہ
    • منگلا
  • سوہاوہ
    • ڈومیلی
    • پڑی درویزہ
  • پنڈدادنخان
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • مزید
    • امیگریشن اور سفر
    • لائف اسٹائل
      • دلچسپ و عجیب
      • صحت
    • پاکستان
    • دنیا
    • ٹیکنالوجی
    • کاروبار
    • کھیل
    • تعلیم
    • سیاست
پڑھنا: آئرلینڈ: اسکول میں چاقو زنی کی واردات کے بعد پُرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے
شیئر کریں
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر
سرچ
  • صفحۂ اول
  • ضلع جہلمضلع جہلم
    • جہلم
    • دینہ
    • سوہاوہ
    • پنڈدادنخان
    • منگلا
    • ڈومیلی
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
    • پڑی درویزہ
  • بک مارکس
    • My Bookmarks
    • Customize Interests
  •  
    • پاکستان
    • اوورسیز پاکستانی
    • امیگریشن اور سفر
    • سیاست
    • کاروبار
    • کھیل
    • دنیا
    • صحت
    • تعلیم
  • کالم و مضامین
  • ٹیکنالوجی
    • موبائل فون
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں

آئرلینڈ: اسکول میں چاقو زنی کی واردات کے بعد پُرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
25 نومبر, 2023
شیئر کریں
آئرش وزیر اعظم نےاحتجاج میں ملوث افراد کوانصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہفتوں کے اندر نئے قوانین بنانے کا وعدہ کیا— فوٹو / اے ایف پی
شیئر کریں

آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں ایک شخص کی جانب سے تین بچوں اور ایک اسکول کیئر اسسٹنٹ پر چاقو سے حملے کے بعد پُرتشدد احتجاج پھوٹ پڑے۔

رپورٹ کے مطابق اس واقعے کو برطانوی میڈیا میں بڑے پیمانے پر رپورٹ کیا گیا تھا، مگر چند نشریاتی اداروں نے تشدد کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

سوسن ڈیلی کی مینیجنگ ایڈیٹر نے ڈان کو بتایا کہ چاقو زنی کے واقعے پر غم و غصہ اور خوف تھا لیکن بہت جلد آن لائن ایسے بیانات اور اصطلاحات دیکھنے میں آئے جو نسل پرستانہ بیانیے سے منسلک تھے، ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی اس بات کا اشارہ ملا کہ اس واقعے میں کوئی غیر ملکی ملوث ہے،کچھ مخصوص برے افراد نمودار ہوئے، جنہوں نے دوسرے علاقوں میں احتجاج کو منظم کر دیا، انہوں نے حملہ آور کا تعلق الجزائر سے ہونے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اب ہم جانتے ہیں کہ وہ ایک شہری ہے۔

آئرلینڈ کے صحافی اور براڈکاسٹر یونا ملالی نے ڈیجیٹل پروگرام میں کہا کہ ہمیں حملے کے پیچھے وجوہات کا علم نہیں لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوا اس میں نسل پرستی اور ’زینو فوبیا‘ (دوسرے ممالک کے لوگوں کو پسند نہ کرنا) شامل ہے کیونکہ لوگ مجرم کی قومیت کے بارے میں قیاس آرائیاں کر رہے تھے، ان کا کہنا تھا کہ نسل پرستی کے حوالے سے آئرلینڈ اور ڈبلن میں ایک سیاق و سباق رہا ہے، مگر اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ جب کسی جرم کا ارتکاب ہوتا ہے اور جب لوگ قیاس آرائیاں کرتے ہیں کہ اس کا تعلق کہاں سے ہے تو آپ کو نسل پرستانہ ردعمل ملتا ہے جو کہ موقع پرست ہے اور متاثرین کے ساتھ اس کا تعلق بہت کم ہوتا ہے۔

آئرلینڈ کے وزیر اعظم لیو وراڈکر کا کہنا تھا کہ ہنگامہ آرائی میں 500 افراد ملوث تھے اور پولیس نے 34 افراد کی گرفتاری کی تصدیق کردی ہے، انہوں نے بتایا کہ یہ لوگ آئرلینڈ کے لیے شرمندگی کا باعث ہیں اور ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہفتوں کے اندر نئے قوانین بنانے کا وعدہ کیا۔

آئرلینڈ پولیس کے سربراہ ڈریو ہیرس کے مطابق تشدد ایک پاگل، انتہائی دائیں بازو کے نظریے سے چلنے والے غنڈہ گروہ نے کیا، اسکول میں چاقو زنی کے واقعے کے بعد فسادیوں نے پولیس کی 11 گاڑیوں کو تباہ کر دیا، مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں کم ازکم 13 دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا اور اس سے کئی زیادہ تعداد میں گاڑیوں کو لوٹا گیا، انہوں نے بتایا کہ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ تشدد کے دوران تین بسوں اور ایک ٹرام کو تباہ کر دیا گیا اور ساتھ ہی متعدد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

بی بی سی نے رپورٹ کیا کہ حملہ آور کے غیر ملکی ہونے کے جھوٹے دعوے کیے گئے اور کہا کہ یہ عندیہ ملا ہے کہ وہ 20 سال سے ملک میں مقیم آئرش شہری ہے۔

یورو نیوز نے اپنی ہیڈ لائن میں لکھا کہ منظم نسل پرست گروہ نے انتشار پھیلانے کے لیے امیگریشن معاملے کا استعمال کیا۔

ڈریو ہیرس نے ایک پریس کانفرنس میں سوشل میڈیا پر تارکین وطن کے خلاف کشیدگی کے باوجود پولیس کے ردعمل کا دفاع کیا، انہوں بڑی تعداد میں دکانیں لوٹنے والوں کی طرف اشارہ کیا، انہوں نے بتایا کہ یہ کہنا پڑے گا کہ پہلے مظاہرین کے ہجوم کا غم و غصہ (گردا سیوچانا) پولیس کی طرف تھا، پھر یہ ان لوگوں کے ساتھ مل گئے جو صرف جرم، بدامنی اور لوٹ مار کے ارادے سے آئے تھے۔

یہ مضمون شیئر کریں
Facebook Flipboard Pinterest Whatsapp Whatsapp Reddit Telegram لنک کاپی کریں
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمیں فالو کریں

FacebookLike
XFollow
PinterestPin
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
TiktokFollow
WhatsAppFollow
LinkedInFollow
SnapchatSubscribe
ThreadsFollow
BlueskyFollow
Weather
31°C
Jhelum
scattered clouds
31° _ 31°
58%
2 km/h
اتوار
37 °C
پیر
40 °C
منگل
40 °C
بدھ
38 °C
جمعرات
33 °C

تازہ ترین

سوہاوہ: 21 سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی کی کوشش اور اغواء کی کوشش ناکام، تین ملزمان گرفتار
25 جولائی, 2026
جہلم: ایف بی آر فائلر فیس میں اضافے پر کاروباری حلقوں کی تشویش
25 جولائی, 2026
جہلم میں سستی روٹی کے سرکاری نرخوں پر عملدرآمد نہ ہو سکا، روٹی اور نان مہنگے داموں فروخت ہونے لگے
25 جولائی, 2026
جہلم: موٹر سائیکل چوری کے مقدمے میں 2024 سے مطلوب دو اشتہاری مجرمان گرفتار
25 جولائی, 2026
دریائے جہلم کے وسط میں مبینہ عارضی ڈمپنگ پوائنٹ پر شہریوں کی تشویش
25 جولائی, 2026

شاید آپ یہ بھی پڑھنا پسند کریں

بارسلونا میں عمران خان کی کال پر احتجاجی مظاہرہ

25 نومبر, 2024

دنیا اور آخرت کے معاملات پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے، چوہدری انصر محمود

17 فروری, 2025

ندیم اختر بٹ کے بیٹے کی وفات پر ن لیگ ہالینڈ کا تعزیتی اجلاس

11 اکتوبر, 2023

برطانوی حکومت کا فسادات میں ملوث تنظیموں پر پابندی لگانے پر غور، تقسیم کی کوشش ناکام بنادی گئی، طاہر علی ایم پی

22 اگست, 2024

اشتہارات اور خبروں کیلئے جہلم اپڈیٹس سے رابطہ کریں۔

  • [email protected]
  • [email protected]
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں Follow us on Google News
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • Terms & Condition
  • About Us
  • Home

About US

The Largest News Network of Jhelum, Pakistan.
Quick Link
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر

Subscribe US

Subscribe to our newsletter to get our newest articles instantly!

[mc4wp_form]
Jhelum UpdatesJhelum Updates
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں