سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت 10 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔
منگل کو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمشنر کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت فواد چوہدری نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن سے معافی مانگ لی اور تحریری معافی نامہ الیکشن کمیشن میں جمع کروا دیا۔
سابق وفاقی وزیر نے موقف اختیار کیا کہ 2 کیسز میں معافی مانگ چکا ہوں، پورے پاکستان میں انسداد دہشت گردی عدالتوں کے چکر کاٹ رہا ہوں جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ تحریری جواب جمع کرائیں۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ توہین کا معاملہ تو معافی تلافی پر ختم ہو جاتا ہے جس پر ممبر بلوچستان نے جواب دیا کہ ایسے تو پھر روز ہوتا رہے گا۔
بعدازاں، الیکشن کمیشن نے کیس کی مزید سماعت 10 دسمبر تک ملتوی کردی۔
پس منظر
اگست 2022 میں الیکشن کمیش نے عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کو مختلف جلسوں، پریس کانفرنسز اور متعدد انٹرویوز کے دوران الزمات عائد کرنے پر الیکشن کمیشن کی توہین اور ساتھ ہی عمران خان کو توہین چیف الیکشن کمشنر کا نوٹس جاری کیا تھا۔
ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کو توہین الیکشن کمیشن کے نوٹسز جاری کیے ہیں اور کہا گیا ہے کہ 30 اگست کو ذاتی حیثیت یا بذریعہ وکیل پیش ہوں۔
20 جون کو عمران خان اور فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن اور توہین چیف الیکشن کمشنر کیسز سماعت کے لیے مقرر ہوئے تھے۔
3 جنوری کو توہین الیکشن کمیشن کیس میں عمران خان اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری پر فرد جرم عائد کردی گئی تھی۔



اگر پاکستان میں اداروں نے بلاتفریق کام شروع کیا تو ممکن ہے کہ پاکستانی ادارے دنیا کی نمبر ون ادارے تسلیم کیا جائے گا اور ان کی عزت وقار بھی بلند رہئے گا