برطانیہ نے اسائلم سیکرز بارے نئی پالیسی تیار کر لی

برطانیہ نے چھوٹی کشتیوں کی آمد سے نمٹنے کیلئے 2030 تک کیلئے 700 ملین پونڈ مختص کر دیئے ہیں، سرکاری طور پر شائع ہونے والے منصوبوں کے مطابق چینل کراسنگ کا سلسلہ 2023 تک جاری رہنے کی توقع ہے۔

حکومت کے منصوبے کے تحت اسائلم سیکرز کے مستقل مقامات کا انتظام چلانے کیلئے کمرشل پارٹنرز کو ذمہ داری دی جائے گی۔

حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ زیر تکمیل پروکیورمنٹ پراجیکٹ کے بارے میں فی الوقت کوئی تبصرہ کرنا نامناسب ہوگا لیکن حکومت کے کنٹریکٹ کی ویب سائٹ سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق وزارت داخلہ کو کینٹ میں کم و بیش 2030 تک جس میں 2034 تک توسیع کا امکان ہے ۔

اسائلم سیکرز کو رکھنے کے 2 بڑے مقامات کا انتظام چلانے کیلئے کم از کم ایک پارٹنر کی ضرورت ہے، تاجروں کو انتظام کاری میں شراکت داری کا واضح مطلب یہ ہے کہ حکام چھوٹی کشتیوں کی مسلسل آمد کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

تاجروں کو شراکت داری کی یہ دعوت روانڈا کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے ایک دن پہلے دی گئی تھی جب کہ سپریم کورٹ نے چھوٹی کشتیوں سے آنے والے بعض مائیگرنٹس کو روانڈا بھیجنے کی راہ روک دی ہے۔

وزیراعظم رشی سوناک کا کہنا ہے کہ روانڈا کے ساتھ ہونے والے نئے معاہدے کے بعد چھوٹی کشتیوں کی برطانیہ آمد کاسلسلہ بند ہو جائے گا جب کہ ہوم آفس کا کہنا ہے کہ نئی حکمت عملی کے تحت ملک بدری کی تمام اپیلیں ناکام ہو جائیں گی لیکن امیگریشن کے سابق وزیر کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون بہت ہی کمزور ہے اور اس کی کامیابی مشکل ہے۔

ہوم آفس کو اسائلم سیکرز کو رکھنے کی جس جگہ کا انتظام کاری کیلئے کیلئے پرائیوٹ پارٹنر کی تلاش ہے وہ ڈیورن میں گودی پر واقع ہے۔ ان سینٹرز کا مقصد غیر قانونی طور پر برطانیہ آنے والوں کو عزت اور وقار کے ساتھ رکھ کر ان کے کوائف حاصل کرکے معاملات کو آگے بڑھانا ہے۔

حکام کا خیال ہے کہ ان سروسز پر اگلے 6 سال کے دوران کم و بیش 700 ملین پونڈ خرچ ہوں گے، اگر اخراجات کی یہی شرح برقرار رہی تو حکومت آگے 10 سال کے دوران 1.16 بلین پونڈ فراہم کرے گی۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button