جہلم: سرکاری ملازمین، دیہاڑی دار طبقہ اور سفید پوش خاندانوں کے لیے قائم کیے گئے یوٹیلیٹی اسٹورز پر بنیادی اشیائے خوردونوش کی قلت سنگین صورت اختیار کر گئی ہے۔
جہلم سمیت ملک بھر کی مڈل اور لوئر مڈل کلاس آبادیوں، کچی بستیوں اور غریب علاقوں کے قریب قائم یوٹیلیٹی اسٹورز پر چینی، درجہ دوم اور سوم کے گھی و آئل کا اسٹاک کئی ماہ سے ناپید ہے۔
ذرائع کے مطابق چینی گزشتہ کئی ہفتوں سے اسٹورز پر دستیاب نہیں، جبکہ گھی اور کوکنگ آئل کی قلت کو کئی مہینے گزر چکے ہیں۔ متعدد یوٹیلیٹی اسٹورز پر صرف درجہ اول کا مہنگا گھی اور آئل محدود مقدار میں دستیاب ہے، جو عام شہری کی مالی استطاعت سے باہر ہو چکا ہے۔ اس صورتحال کے باعث غریب شہری روزانہ کی بنیاد پر یوٹیلیٹی اسٹورز کے چکر لگانے پر مجبور ہیں، لیکن انہیں مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو رہا۔
محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم کے بعد اب یوٹیلیٹی اسٹورز بھی حکومتی ریڈار پر آ گئے ہیں، جہاں سسٹم میں موجود کمزوریاں اور نااہلی کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔ اشیائے ضروریہ کی مسلسل عدم دستیابی سے مزدور طبقہ، پنشنرز، سرکاری ملازمین اور دیگر مستحق شہری سخت پریشانی میں مبتلا ہیں۔
شہریوں نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک بھر میں یوٹیلیٹی اسٹورز کی بگڑتی صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور بنیادی اشیائے خوردونوش کی مستقل اور منصفانہ فراہمی کو یقینی بنائیں۔
عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ہر ماہ باقاعدگی سے یوٹیلیٹی اسٹورز کے اسٹاک کی رپورٹ طلب کرے، اشیاء کی قلت کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور غریب عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ اس نازک اور سنگین صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔


